ڈونلڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خدشہ، رپورٹ

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے قریبی افراد سے تشویش کا اظہار کیا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے قریبی افراد سے تشویش کا اظہار کیا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان سے ملاقاتیں کرنے والے افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ’شاید وہ بھی وائرس سے متاثر ہیں‘۔

اگرچہ تاحال وائٹ ہاؤس یا امریکی صدارتی دفتر کے کسی ملازم یا ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی عہدیداروں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تاہم امریکی صدر نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیر ملکی عہدیداروں سمیت امریکی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند دن میں جن افراد سے ملاقاتیں کیں ان میں سے کچھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد امریکی صدر بھی تشویش میں مبتلا ہوگئے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے گزشتہ ہفتے ملاقات کرنے والے برازیلی صدر کے میڈیا ترجمان فیبیو ونگرتن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد امریکی صدر کو تشویش لاحق ہوگئی ہے اور وہ خود کے وائرس میں مبتلا ہونے سے متعلق فکرمند ہیں۔

امریکی صدر سے ایک ہفتہ قبل ملاقات کرنے والے برازیلی عہدیدار میں وائرس کی تصدیق کے بعد ٹرمپ تشویش میں مبتلا ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
امریکی صدر سے ایک ہفتہ قبل ملاقات کرنے والے برازیلی عہدیدار میں وائرس کی تصدیق کے بعد ٹرمپ تشویش میں مبتلا ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برازیلی صدر کے میڈیا ترجمان کی جانب سے خود میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے قریبی افراد سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور انہیں یہ شبہ بھی ہوا کہ انہوں نے صرف برازیلی عہدیدار نہیں بلکہ ممکنہ طور پر دوسرے ایسے افراد سے بھی ملاقات کی جو وائرس کا شکار ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ان سے ملاقات کرنے والے افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو تشویش لاحق ہوگئی ہے اور انہوں نے کچھ مصروفیات کو ملتوی یا منسوخ بھی کردیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی میڈیا ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تشویش سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ امریکی صدر نے کسی بھی ایسے شخص سے ملاقات نہیں کی جن میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدارتی محل کی میڈیکل ٹیم نے اس بات کو یقینی بنا رکھا ہے کہ امریکی صدر اور نائب صدر سمیت ان کے اہل خانہ اور پورے صدارتی محل کا عملہ صحت مند رہے اور وہ وائرس سے متعلق احتیاط سے کام لیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’کورونا‘ سب سے زیادہ کہاں پھیل رہا ہے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر اور نائب صدر سمیت ان کے اہل خانہ کے تمام افراد صحت مند ہیں اور ان کے حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی صدر کورونا کا ٹیسٹ کروائیں گے یا نہیں اور اگر کروائیں گے تو کب تک کروائیں گے اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

خیال رہے کہ اگرچہ تاحال کسی بھی ملک کے صدر یا وزیر اعظم میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تاہم ایران، برطانیہ، چین اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ اور حکومتی عہدیداروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

سیاستدانوں اور حکومتی عہدیداروں کے علاوہ سیکیورٹی عہدیداروں، طبی عہدیداروں، کھلاڑیوں اور شوبز شخصیات میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور 13 مارچ تک دنیا کے 115 سے زائد ممالک میں وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

امریکا کا شمار اس وقت ایسے خطے میں ہوتا ہے جہاں کورونا وائرس چین کے بعد تیزی سے پھیل رہا ہے، امریکا کے علاوہ یورپ میں بھی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جب کہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں بھی وائرس کے تیزی سے پھیلنے کو نوٹ کیا جا رہا ہے۔