’کورونا‘ سے بچنے کے لیے بھارت میں ’گائے کا پیشاب‘ پینے کی پارٹی

15 مارچ 2020

ای میل

پارٹی میں گائے کے پیشاب کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا گیا تھا — فوٹو: اے پی
پارٹی میں گائے کے پیشاب کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا گیا تھا — فوٹو: اے پی

بھارت کی ہندو انتہاپسند جماعتوں میں سے ایک ہندو مہاسبھا جس کا اصل نام ’اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ تھا اس کی جانب سے انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں ’کورونا وائرس‘ سے بچنے کے لیے ’گائے کا پیشاب پینے‘ کی پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

ہندو مہا سبھا کے سربراہ سوامی چکرپانی مہاراج نے رواں ماہ 4 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ ’گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے‘ سے ’کورونا وائرس‘ ختم ہوجاتا ہے اور انہوں نے اس ضمن میں ہولی کے بعد ملک بھر میں ’گائے کے پیشاب‘ پینے کی پارٹیوں کے انعقاد کا اعلان بھی کیا تھا۔

اور اب انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں پہلی ’گائے موتر‘ (گائے کا پیشاب پینے کی پارٹی‘ انعقاد کرکے بھارت میں ’کورونا وائرس‘ کے علاج کے حوالے سے خود ساختہ راہ اپنالی ہے۔

ہندو مہا سبھا کے سربراہ نے کورونا کے بنائی گئی تصویر کو بھی گائے کا پیشاب پلایا—فوٹو: اے پی
ہندو مہا سبھا کے سربراہ نے کورونا کے بنائی گئی تصویر کو بھی گائے کا پیشاب پلایا—فوٹو: اے پی

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ہندو مہاسبھا کی جانب سے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں ’گائے موتر‘ پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں 200 مرد و خواتین نے شرکت کی۔

رپورٹ کے مطابق پارٹی میں شرکت کرنے والے مرد و خواتین نے نہ صرف ’گائے کا پیشاب‘ پیا بلکہ پارٹی میں شریک ہونے والے افراد نے حیران کن دعوے بھی کیے۔

چائے پارٹی کی طرز پر منعقدہ پارٹی میں جماعت کے سربراہ نے بھی کئی پیالے پیشاب پیا—فوٹو: اے پی
چائے پارٹی کی طرز پر منعقدہ پارٹی میں جماعت کے سربراہ نے بھی کئی پیالے پیشاب پیا—فوٹو: اے پی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پارٹی میں شامل ہونے والے زیادہ تر افراد اگرچہ ہندو مہاسبھا کے کارکن تھے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 21 سال سے ’گائے کے پیشاب پینے سمیت گائے کے گوبر سے نہاتے آ رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: ’گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے‘ سے ’کورونا‘ ختم ہوجاتا ہے، ہندو رہنما

پارٹی میں شامل ہونے والے افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 21 سال سے گائے کے گوبر سے نہانے اور گائے کے پیشاب پینے کی وجہ سے انہیں کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی۔

پیشاب پارٹی میں خواتین نے بھی شرکت کی—فوٹو: اے پی
پیشاب پارٹی میں خواتین نے بھی شرکت کی—فوٹو: اے پی

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں گائے کا پیشاب پینے کی کامیاب پارٹی کے انعقاد کے بعد ہندو مہاسبھا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جلد ہی ملک کے دیگر شہروں میں بھی ’گائے موتر‘ پارٹیاں منعقد کی جائیں گی اور لوگوں کو ’گائے کا پیشاب‘ پینے کے فوائد بتائیں جائیں گے۔

رائٹرز کے مطابق ہندو مہاسبھا کے سربراہ کی طرح بھارتی حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حال ہی میں پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گائے کے پیشاب پینے سے کینسر ختم ہوجاتا ہے جب کہ انہوں نے گائے کا پیشاب پینے کو دیگر بیماریوں کے خاتمے کا سبب بھی قرار دیا۔

نوجوان بھی پیشاب پینے کی پارٹی میں انجوائے کرتے دکھائی دیے—فوٹو: اے پی
نوجوان بھی پیشاب پینے کی پارٹی میں انجوائے کرتے دکھائی دیے—فوٹو: اے پی

تاہم بھارتی سائسندان اور طبی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا تھا کہ تجربات سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ’گائے کا پیشاب‘ پینے یا ’گوبر کھانے‘ سے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہو۔

خیال رہے کہ بھارت میں گائے کو ’مقدس‘ مانا جاتا ہے اور اس کی پوجا بھی کی جاتی ہے، ہندو مذہب کے ماننے والے افراد اگر بھارت میں کسی مسلمان کو گائے ذبح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور متعدد بار گائے کو ذبح کرنے کے الزامات میں ہندوستان میں مسلمانوں کو بیہمانہ تشدد کے بعد قتل بھی کردیا گیا۔

عمر رسیدہ افراد نے بھی پیشاب پارٹی میں شرکت کی کی—فوٹو: اے پی
عمر رسیدہ افراد نے بھی پیشاب پارٹی میں شرکت کی کی—فوٹو: اے پی

بھارت میں اس وقت کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جہاں ہندو انتہاپسند لوگوں کو گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے کی تجویز دے رہے ہیں، وہیں انڈیا میں ’کورونا‘ وائرس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن میں ’گو، کورونا گو‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔

بھارت میں 15 مارچ کی دوپہر تک کورونا وائرس کے 102 کیس سامنے آ چکے تھے جب کہ وہاں تین ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

پیشاب پینے کی پارٹی میں سیکیورٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا—فوٹو: رائٹرز
پیشاب پینے کی پارٹی میں سیکیورٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا—فوٹو: رائٹرز

جنوبی ایشیائی خطے میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا کے مقابلے میں کورونا وائرس بھارت میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور انڈیا کے علاوہ باقی تمام ممالک کے کیسز مجموعی طور پر بھارت کے کیسز سے بھی کم ہیں۔

بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر پاکستان ہے، جہاں 15 مارچ کی دوپہر تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 33 تک جا پہنچی تھی مگر خوش قسمتی سے پاکستان میں تاحال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

پارٹی میں پیشاب کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا تھا—فوٹو: اے پی
پارٹی میں پیشاب کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا تھا—فوٹو: اے پی