کیا امریکا میں کورونا وائرس کا علاج کلوروکوئن دوا سے ہورہا ہے؟

20 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس دنیا کے 160 ممالک میں 2 لاکھ 44 ہزار 553 افراد کو متاثر کرچکا ہےـفائل فوٹو: پکسا بائے
کورونا وائرس دنیا کے 160 ممالک میں 2 لاکھ 44 ہزار 553 افراد کو متاثر کرچکا ہےـفائل فوٹو: پکسا بائے

چین اور فرانس میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والی ایک دوا کے حوصلہ افزا تنائج سامنے آئے جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اس دوا کی منظوری دے دی لیکن ایف ڈی اے نے ان کے اس بیان کی فوری تردید کردی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اس نئے وائرس کا علاج کرنے کے لیےانسداد ملیریا کی دوا پر تیزی سے کام کررہا ہے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ 'اس (دوا) کے نہایت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور ہم اس کی فوری دستیابی یقینی بنائیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ ' ایف ڈی اے بہت اچھا کام کررہا ہے اور انہوں نے منظوری کے طریقہ کار کے تحت اس (دوا کی) منظوری دے دی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے علاج کے لیے مؤثر دوا دریافت؟

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ایف ڈی اے نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے کلوروکوئن کی منظوری دے دی، غلط ہے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایف ڈی اے نے ایک بریفنگ دیتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ انہوں نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے نہ تو کلوروکوئن کی منظوری دی نہ کسی اور دوا کی۔

ایف ڈی اے نے یہ بھی واضح کیا کہ کلوکوئن کسی اور علاج کے لیے منظور شدہ دوا ہے اس لیے ڈاکٹرز اگر چاہیں تو انہیں قانونی طور پر غیر منظور یا آف لیبل وجوہات مثلاً کورونا وائرس کے علاج کے لیے تجویز کرنے کی اجازت ہے۔

ایف ڈی اے کمشنر اسٹیفن ہین نے عندیہ دیا کہ جب تک دوا باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوجاتی اس تک رسائی کو وسیع کردیا گیا ہے تاکہ حکام زیادہ اعداد و شمار جمع کرسکیں۔

مزید پڑھیں: یہ عام دستیاب دوا کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے؟

ایف ڈی اے کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی دوا ممکنہ طور پر دستیاب ہو تو ڈاکٹر مریضوں پر استعمال کے لیے اس کی درخواست کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اس کا ایک طریقہ کار ہے اور اس کے بہت تیزی سے منظوری دی جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مثال کے طور پر متعدد امریکوں نے یہ تحقیق پڑھی ہے اورمیڈیا رپورٹ میں کلوروکوئن کے بارے میں سنا ہے جو انسداد ملیریا دوا ہے''۔

ایف ڈی اے کمشنر کے مطابق 'جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ س کی منظوری دی جاچکی ہے لیکن ملیریا اور گٹھیا کے علاج کے لیے '۔

دوا کی قلت

تاہم ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی اس دوا کی کورونا وائرس کے تیزی کے پھیلاؤ کے سبب طلب میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے رسد میں کمی ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین میں کورونا وائرس کے خلاف دوا کو پیٹنٹ کرانے کی درخواست

خیال رہے کہ کورونا وائرس کا اب تک کوئی علاج منظور نہیں ہوا ہے لیکن محقیقن پہلے سے موجود علاج کے طریقوں پر تحقیق کررہے ہیں اور تجرباتی علاج پر کام کررہے ہیں، زیادہ تر مریضوں کو صرف معاون طبی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس دنیا کے 160 ممالک میں 2 لاکھ 44 ہزار 553 افراد کو متاثر کرچکا ہے اور اس وائرس کے باعث اب تک 10 ہزار 31 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 86 ہزار 32 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔