ایشیائی ممالک بیرونی کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر کورونا کا شکار

20 مارچ 2020

ای میل

چین میں اب بیرون ممالک سے آنے والے افراد کورونا ساتھ لا رہے ہیں—فوٹو: زنوا
چین میں اب بیرون ممالک سے آنے والے افراد کورونا ساتھ لا رہے ہیں—فوٹو: زنوا

ایشیائی ملک چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کے بیرونی کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر چین سمیت دیگر ایشیائی ممالک وبا کے حملوں کا شکار بن رہے ہیں۔

اگرچہ عالمی وبا کا آغاز بھی دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے چین سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی دیکھی جا رہی تھی۔

ابتدائی ہفتوں میں اگرچہ چین میں ہی سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے تاہم مارچ کے آغاز میں ہی وہاں سے کیسز کی تعداد کم ہونا شروع ہوئی اور 19 مارچ کو کورونا کےمرکز سمجھے جانے والے شہر ووہان سے پہلی بار دسمبر 2019 کے بعد کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

اسی طرح ایشیائی ملک جنوبی کوریا میں بھی اگرچہ ابتدائی طور پر سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے تاہم مارچ کے آغاز میں وہاں سے بھی کورونا کے نئے کیسز کی تعداد کم ہوگئی لیکن اب ایک بار پھر مذکورہ دونوں ممالک سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو کورونا کے نئے کیسز کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: کورونا وائرس کے باعث بند تعلیمی ادارے کھلنے لگے، کاروبار زندگی بحال

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق چین، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ایشیائی ممالک کو مختصر عرصے میں دوسری بار کورونا وائرس کے حملوں کا سامنا ہے اور اس بار ایشیائی ممالک کو مقامی طور پر منتقل ہونے والے کیسز کا نہیں بلکہ بیرونی کیسز کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں 19 مارچ کو چین کے شہر ووہان میں کوئی بھی نیا کورونا کا کیس سامنے نہیں آیا تاہم اسی دن چین میں 34 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو تمام کے تمام بیرون ممالک سے چین پہنچے تھے۔

یعنی چین میں مقامی طور پر کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کے بجائے بیرون ممالک سے آنے والے غیر ملکیوں اور چینیوں میں مذکورہ وائرس کی تشخیص ہوئی۔

اسی طرح 19 مارچ کو سنگاپور میں بھی کورونا وائرس کے 47 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 33 کیسز بیرون ممالک سے آئے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے کورونا کے تمام مریض غیر ملکی تھے یا وہ سنگاپور کے ہی شہری تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین اور سنگاپور کی طرح جنوبی کوریا میں بھی بیرون ممالک سے آنے والے افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

19 مارچ کو جنوبی کوریا میں 152 نئے کیس سامنے آئے جن میں سے بیرون ممالک سے آنے والے کیسز بھی شامل تھے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ کیسز میں سے بیرون ممالک سے آنے والے کتنے کیس تھے؟

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ تینوں ایشیائی ممالک سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو بھی بیرون ممالک سے آنے والے متاثرہ افراد سے خطرہ ہے اور زیادہ تر بیرون ممالک سے آنے والے افراد کورونا سے متاثر ہی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کے بعد جنوبی کوریا نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟

چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا کی طرح پاکستان میں بھی ابتدائی طور پر جو کیسز سامنے آئے یا اب تک جتنے کیسز پاکستان میں سامنے آئےہیں ان میں سے زیادہ تر افراد بیرون ممالک سے پہنچے تھے۔

پاکستان میں کورونا کا شکار ہونے والے زیادہ تر اگرچہ پاکستانی شہری ہیں تاہم وہ اپنے ملک میں نہیں بلکہ بیرون ملک کورونا کا شکار ہوئے اور پاکستان پہنچنے پر ان میں مرض کی تشخیص ہوئی جس کے بعد انہیں قرنطینہ منتقل کردیا گیا۔

اس وقت ایشیا میں کورونا وائرس کے پھیلاو کی رفتار یورپ سے کم ہے تاہم ایشیا کے کئی ممالک میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا کے کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور ایسے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں 20 مارچ کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 448 تک جا پہنچی تھی۔

20 مارچ کی سہ پہر تک دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 45 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 30 تک جا پہنچی تھی۔