ایف بی آر کو اشیائے خورو نوش پر ٹیکسز کم کرنے کیلئے سمری پیش کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ مارچ 22 2020

ای میل

—فائل فوٹو:اے پی
—فائل فوٹو:اے پی

اسلام آباد: غذائی اشیا کے مہنگے ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) سے اجناس کی قیمتوں میں ڈیوٹی اور ٹیکسز کم کرنے کی سمری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس افسران کی ایک ٹیم اشیائے خور و نوش کی ایک فہرست مرتب کررہی ہے ، جسے منگل کے روز وفاقی کابینہ میں غور کے لئے پیش کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے نیشنل ٹیرف کمیشن کو بھی ضروری اشیائے خور ونوش پر ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) سمیت ڈیوٹی اسٹرکچر مرتب کرنے کا کام سونپا تھا جس کی وجہ سے گھریلو اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: فروری میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 12.4 فیصد ہوگئی

غیر متناسب اشیائے خور و نوش کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ 'ہم نے پہلے ہی متعلقہ محکمہ کو آگاہ کردیا ہے کہ خام کھانے کی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی نہیں ہے'۔ اس کے برخلاف، ایف بی آر درآمدی مرحلے پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس (انکم ٹیکس) جمع کرتا ہے۔

مقامی کسانوں کے برآمدات کے فائدے کو کرنے کے لیے کچھ اشیا پر باقاعدہ اور اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی عائد ہیں۔

ایف بی آر کی فہرست کے مطابق، وہ ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ سبزیوں پر کسٹم ڈیوٹی یا سیلز ٹیکس نہیں ہے۔ تاہم پیاز کی درآمد پر حکومت 20 فیڈف سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے۔

آلو پر حکومت 25 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس جمع کرتی ہے۔

اسی طرح حکومت نے گندم پر 60 فیصد آر ڈی گندم کے آٹے پر 25 فیصد، چینی پر 40 فیصد اور بغیر ہڈی کے گوشت پر 5 فیصد نافذ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کا مقابلہ کریں گی یا مہنگائی کی تحقیقات؟ بلاول کا سوال

دالوں پر درآمدی مرحلے میں تقریبا 2 فیصد انکم ٹیکس بھی ہے۔

ملائیشیا اور انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی بہت زیادہ ہے جس میں تبدیلیوں سے مقامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان اشیا کی فہرست کابینہ میں پیش کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس واپس لینے کی صورت میں ہم ان تمام اشیا کے محصولات کے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تقریبا 20 ضروری اشیا موجود ہیں جن پر اس کی درآمدات پر ٹیکسوں کی چھوٹ کے لیے غور کیا جائے گا۔