گلگت بلتستان:کورونا وائرس کی اسکریننگ پر مامور ڈاکٹر دم توڑ گیا

اپ ڈیٹ 23 مارچ 2020

ای میل

—فوٹؤ: اے ایف پی
—فوٹؤ: اے ایف پی

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا نوجوان ڈاکٹر دوران علاج دم توڑ گیا۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے ڈاکٹر کی موت کی تصدیق کی تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی موت کوروناوائرس سے ہوئی یا دوسری بیماری کے باعث ہوئی۔

خیال رہے کہ جاں بحق ہونے والا نوجوان ڈاکٹرکورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم کیے لیے مرکز میں تعینات تھا اور تفتان سے آنے والے زائرین کی اسکریننگ کررہا تھا۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 70 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 757 ہوگئی

گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے ڈاکٹر شاہ رمضان کے مطابق انتقال کرنے والا ڈاکٹر دو روز قبل جگلوٹ کے مقام پر قائم اسکریننگ سینٹر سے واپسی کے بعد گھر پہنچ کر بیمار ہوگیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا تھا جو مثبت آیا تھا اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا تھا۔

ترجمان وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان راشد ارشد کا کہنا تھا کہ اہل خانہ کی رضامندی سے ڈاکٹر کو دو روز قبل ہی وینٹی لیٹر سے ہٹادیا گیا تھا۔

انتقال کرنے والے ڈاکٹر کے والد کا حوالہ دیتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ تھکا ہوا ہے اور سونے جارہا ہے لیکن وہ معمول کے مطابق صبح وقت نہیں اٹھا'۔

ترجمان نے ڈاکٹر کی بیماری کے حوالے سے مزید کہا کہ 'ان کے اہل خانہ کمرے میں ان کو دیکھنے گئے لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا'۔

ڈاکٹر رمضان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کے اہل خانہ انہیں ہسپتال لے کر آئے اور 'میں نے انہیں اسی رات انہیں اس بدقسمت واقعے سے آگا کیاتھا تاہم وہ اس وقت بالکل ٹھیک تھا'۔

گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال رسول نے تصدیق کی کہ نوجوان ڈاکٹر کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان کی صحت کی اچانک خرابی کی وجہ کورونا وائرس نہیں تھی کیونکہ وائرس سے متاثرہ افراد بے ہوش نہیں ہوتے'۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا سے بچاؤ کیلئے سندھ میں لاک ڈاؤن، کراچی میں مساجد سے اعلانات

ڈاکٹر اقبال رسول کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین نے ان کے برین ٹیومر کے خدشات کا بھی جائزہ لیا کیونکہ یہ ان کی صحت کی اچانک خرابی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے جہاں پاکستان کے دیگر علاقے متاثر ہوئے ہیں وہی گلگت بلتستان میں بھی متاثرین سامنے آئے ہیں جن کی اکثریت ایران سے واپس آنے والے زائرین کی ہے۔

گلگت بلتستان میں 22 مارچ کی شب تک مجموعی طور پر 55 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔