پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 73 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 799 ہوگئی

ای میل

— فوٹو : اے ایف پی
— فوٹو : اے ایف پی

ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے جہاں پنجاب میں مزید 73 اور بلوچستان میں 4 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 799 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 5 ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ اتوار کے روز سندھ میں مزید 60 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔

پنجاب میں ایک دن میں سب سے زیادہ 73 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بلوچستان میں مزید 4 کیسز سامنے آئے۔

پنجاب

دن کے آغاز میں پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ اور کورونا مانیٹرنگ روم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 222 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس میں بعد ازاں اضافہ ہوا۔

اس وقت جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا تھا کہ 153 زائرین، 36 لاہور، ایک ملتان، 2 راولپنڈی، 3 گجرات، 3 جہلم اور گوجرانوالہ میں 4 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 مریضوں کو ٹیسٹ کے رزلٹ موصول ہوتے ہی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹر میں مزید 3 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'پنجاب میں اب تک کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 225 ہوگئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈی جی خان سے 175، لاہور سے 34، گجرات سے 4، گوجرانوالہ سے 4، جہلم سے 3، راولپنڈی سے 3، ملتان سے 2 اور سرگودھا سے ایک مریض رپورٹ ہوا ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم میٹرو بس سروس بھی عارضی طور پر معطل کررہے ہیں'۔

سندھ

محمکہ صحت سندھ کی جانب سے دن کے آغاز میں کہا گیا کہ 41 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے کراچی میں 18 کیسز سامنے آئے ہیں، ان میں سے 4 بیرون ملک سفر کرکے آئے تھے، 2 متاثرین برطانیہ اور 2 ترکی سے واپس آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے رپورٹ ہونے والے دیگر 14 کیسز مقامی افراد ہیں جن کا بیرون ملک کا سفری ریکارڈ نہیں ہے۔

رپورٹ ہونے والے دیگر 23 کیسز سکھر سے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ 'سندھ میں کورونا وائرس کا چوتھا مریض بھی صحت یاب ہوگیا ہے جن کا ٹیسٹ دو مرتبہ منفی آیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کیس ہمارے لیے امید کی ایک اور کرن ہے جبکہ مریض گھر میں آئسولیشن میں تھا'۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رات گئے جاری اعدادو شمار کے مطابق مزید 19 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور صوبے میں مجموعی تعداد 352 ہوگئی ہے۔

بلوچستان

بلوچستان حکومت کے محکمہ صحت سے جاری اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں متاثرین کی تعداد 108 ہوگئی ہے جبکہ 337 نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں جن کے نتائج اب تک نہیں آئے۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں 6 افراد کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کیسز کی مجموعی تعداد 31 جبکہ صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے لیکن وائرس سے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تو کے پی میں سب سے زیادہ متاثرین لقمہ اجل بنے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ صوبے میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہوگئی ہے جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 5 تک پہنچ گئی۔

انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 'حال ہی میں کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہونے والی خاتون کا تعلق تربت سے تھا جنہیں علاج کے لیے ڈیرہ اسمعٰیل خان منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہوگیا'۔

مشیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ 'دوران علاج ان کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تھے جو مثبت آئے ہیں'۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں جہاں ڈاکٹر کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوگیا وہی مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے۔

گلگت بلتستان میں اب مجموعی تعداد 71 ہوگئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی نئے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے اور یہاں تعداد 11 ہے جبکہ آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا اب تک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

گلگت کے ڈاکٹر سمیت ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی

گلگت بلستان حکومت نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ زیر علاج ڈاکٹر کی موت کی وجہ بھی وائرس ہی تھا۔

خیال رہے نوجوان ڈاکٹر ایران سے واپس آنے والے زائرین کی اسکریننگ کررہا تھا اور دو روز قبل صحت کی خرابی کے باعث ہسپپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جان بر نہ ہوسکے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں 149 نئے کیسز سے متاثرین کی تعداد 645 ہوگئی

واضح رہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچادی ہے اور اب تک 11 ہزار سے زائد افراد اس عالمی وبا سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا ہے جس کے بعد مختلف ممالک نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنی سرحدیں بند کردیں ہیں جبکہ فضائی سفر کو بھی معطل کردیا ہے۔

علاوہ ازیں مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن بھی جاری ہے جبکہ جن ممالک میں اب تک لاک ڈاؤن نہیں ہوا وہاں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ابھی تک چین میں سب سے زیادہ ہے لیکن اس سے اموات کی تعداد میں یورپ خاص طور اٹلی سب سے آگے نکل چکا ہے اور وہاں اس سے 4 ہزار سے زائد لوگ مرچکے ہیں، جس کے بعد ایران میں سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں اور وہاں بھی اموات بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان میں یہ وائرس فروری کے آخر میں آیا اور اب تک ملک میں خیبرپختونخوا میں 3 اور سندھ میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔


پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت ہوئی تھی اور مجموعی ہلاکتیں 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں