کورونا وائرس کا اگلا عالمی مرکز 'امریکا' ہوسکتا ہے، عالمی ادارہ صحت

24 مارچ 2020

ای میل

امریکا میں کورونا وائرس سے 42 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 559 ہلاک ہوچکے ہیں — فوٹو: رائٹرز
امریکا میں کورونا وائرس سے 42 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 559 ہلاک ہوچکے ہیں — فوٹو: رائٹرز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کا اگلا عالمی مرکز امریکا بن سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرِس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

امریکا کے وبا کا نیا عالمی مرکز بننے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکا میں کیسز بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس لیے اس کا وبا کا عالمی مرکز بننے کا امکان ہے۔'

دوسری جانب امریکا کے چند ریاستی اور مقامی حکام نے وفاقی حکومت کے اقدامات میں باہمی روابط میں کمی کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی قوانین نے انہیں اشیا کی سپلائی کی مسابقت میں لاکھڑا کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس مشکل کا اعتراف کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'چہروں کے ماسک اور وینٹی لیٹرز کی عالمی مارکیٹ اس وقت بہت جنونی ہے، ہم ریاستوں سے ساز و سامان کی فراہمی میں تعاون کر رہے ہیں لیکن یہ آسان نہیں ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: کولمبیا میں قرنطینہ کی خلاف ورزی پر خاتون کو 8 سال قید کا سامنا

واضح رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے 42 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 559 ہلاک ہوچکے ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں سے 85 فیصد امریکا اور یورپ میں سامنے آئے، جن میں سے تقریباً 40 فیصد امریکا کے تھے۔

برطانیہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

برطانیہ میں منگل کے روز کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں سامنے آئیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق برطانیہ کی وزارت صحت نے کہا کہ منگل کے روز کورونا وائرس سے 87 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 422 ہوگئی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے سعودی عرب میں پہلی موت کی تصدیق

برطانیہ میں ایک ہی روز میں سامنے آنے والے کیسز میں 21 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ تعداد 6 ہزار 650 سے بڑھ کر 8 ہزار 77 ہوگئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے گزشتہ روز ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔

ٹیلی ویژن کے ذریعے قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام دکانیں فوری طور پر بند کی جارہی ہیں اور عوام اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات نہیں کر سکیں گے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ ہوگا۔

ترکی میں متاثرین کی تعداد ایک ہزار 500 سے زائد

ترکی کی وزارت صحت نے کورونا وائرس سے مزید 7 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہوگئی۔

انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر صحت فحریتِن کوسا نے چوبیس گھنٹے کے دوران مزید 293 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی، جس کے بعد مجموعی تعداد ایک ہزار 529 ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس 190 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس وبا سے اب تک 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 4 لاکھ افراد وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔

کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جس سے چین میں 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

چین نے صوبہ ہوبے کو لاک ڈاؤن کر کے وائرس پر قابو پا لیا لیکن اس کے بعد سے یہ وائرس مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔