کابل میں گردوارہ پر حملہ، 25 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکار حملے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں - فائل فوٹو:اے پی
افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکار حملے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں - فائل فوٹو:اے پی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داعش کے جنگجو نے سکھ گردوارت پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 25 عبادت گزار ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق مسلح شخص نے کئی عبادت گزاروں کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بھی بنائے رکھا جس کے بعد افغانستان کی خصوصی فورسز نے بین الاقوامی افواج کی مدد سے عمارت کو خالی کرایا جس میں کم از کم ایک کم عمر حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی۔

افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے سیکیورٹی فورسز پر گرینیڈ سے حملے کیے اور خودکار رائفل سے عوام پر گولیاں چلائیں تاہم افغان فورسز گردوارہ میں پھنسے کم از کم 80 افراد کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔

قبل ازیں اطلاعات آئیں تھی کہ افغان دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح شخص نے سکھ مذہبی کمپلیکس پر حملہ کردیا تھا۔

رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 کے قریب افراد اندر پھنسے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں کو ایک پیغام میں بتایا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو بند کردیا ہے اور حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان رہنماؤں میں اختلاف، امریکا کا افغانستان کی امداد میں کمی کا فیصلہ

طالبان کے ترجمان نے ٹوئٹر پر بیان میں حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

رکن پارلیمنٹ نریندر سنگھ خالصا، جو اقلیتی سکھ برادری کی نمائندگی کی کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ صبح سویرے ہونے والے حملے میں 4 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریباً 200 افراد اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’3 خودکش حملہ آور دھرم شالا میں داخل ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مسلح افراد نے ایسے وقت میں حملہ کیا جب دھرم شالا عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اشرف غنی نے دھماکوں کی گونج میں دوسری مرتبہ افغان صدر کا حلف اٹھالیا

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے ایک روز قبل ہی افغانستان کے رہنماؤں افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے مابین متوازی حکومت کی تشکیل سازی میں عدم اتفاق پر ایک ارب ڈالر کی امداد میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے کمپلیکس کی ایک منزل کو کلیئر کردیا ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے تاکہ شہریوں کی ہلاکت سے بچا جاسکے۔

واضح رہے کہ 2018 میں بھی سکھ برادری پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

افغانستان کے مشرقی حصے میں قائم شہر جلال آباد میں ہونے والے اس حملے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کی مذمت

بعد ازاں پاکستان نے کابل میں گردوارہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا جرم قرار دیا۔