کورونا وائرس: پاکستان کے مختلف شہروں میں عشا کے بعد بیک وقت اذانیں

ای میل

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں گھروں میں محصور افراد جہاں مصروف رہنے کے لیے مختلف کام سر انجام دے رہے ہیں وہیں کئی افراد ایسے مشکل وقت میں اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادات میں مصروف ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے مختلف مذاہب و عقائد کے لوگ گھروں میں رہنے کے باوجود عبادات میں مصروف ہیں اور وہ کورونا سے تحفظ کے لیے خصوصی عبادتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

گھروں تک محدود رہنے والے افراد کی جانب سے عبادات کرنے کا منفرد طریقہ پاکستان میں بھی 24 اور 25 مارچ کی درمیان شب کو دیکھا گیا جب ملک کے متعدد شہروں میں لوگوں نے گھروں میں اذانیں دینا شروع کردیں۔

پاکستان کے بڑے شہر کراچی سمیت کئی شہروں میں لوگوں نے 24 اور 25 مارچ کی شب کورونا وائرس کی وبا سے شفا کے طور پر گھروں میں ہی اذانیں دینا شروع کردیں اور ملک کے لاکھوں افراد نے اس عمل کو سراہا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حوالے سے کئی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔

انہوں نے لکھا کہ پورے کراچی میں رات 10 بجے ایک ساتھ اذانیں دی گئیں۔

ان کے مطابق یہ جذبات کا اظہار کرنے کا خوبصورت طریقہ تھا۔

فیصل آباد میں بھی رات 10 بجے اذانیں دی گئیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان بھر میں ایک ساتھ اذانیں دی گئیں تاکہ خدا کورونا وائرس سے ہماری حفاظت کرے۔

ان کے مطابق کبھی ایسا بھی ہوگا یہ سوچا نہیں تھا۔

ابتدا میں حیرانی ہوئی کہ ملک بھر میں ایک ساتھ ایک ہی وقت میں اذانیں دی گئیں، تاہم بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ چند مذہبی رہنماؤں نے عوام سے اپنے گھروں کی چھتوں پر ایک ساتھ رات 10 بجے اذانیں دینے کی ہدایت کی تھی جس کا آغاز منگل کی شب میں ہوا۔

اس حوالے سے سیلانی فاؤنڈیشن کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے پیغام دیا کہ کسی آفت کے آنے پر یا مصیبت کے وقت اللہ سے مغفرت کے لیے رات کو بلند آواز میں اذانیں دی جاتی تھیں.

انہوں نے کہا کہ جو بھی لوگ مجھے سن رہے ہیں میں ان سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم سب رات 10 بجے ایک ساتھ اذان دیں، امید ہے لاکھوں کروڑوں لوگ اذان دیں گے۔

اس حوالے سے جب ڈان نیوز نے اسلامی نظریاتی کونسل کے ڈاکٹر قبلہ ایاز سے رابطہ کیا تو انہوں نے مولانا بشیر فاروقی کے پیغام کے حوالے سے کہا کہ ایسی کوئی حدیث موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ایسا کام ہوا تھا البتہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ بعد میں وسطی ایشیا کے لوگوں نے کوئی تباہی یا آفت آنے کی صورت میں اس پر عمل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انفرادی سطح پر ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس مسجد کے امام مولانا احمدالرحمٰن کا بھی یہی کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ روایت نہیں ملتی لیکن خدا سے رحم طلب کرنے کے لیے اذان دینے میں کچھ غلط نہیں ہے۔