سپریم کورٹ نے ’غیر اہم درخواست‘ جمع کرانے پر ایف بی آر پر جرمانہ عائد کردیا

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

عدالت عظمی نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز
عدالت عظمی نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اپنے ہی محکمے کے ایک سینئر افسر کو جائز حقوق فراہم نہ کرنے اور تاخیری حربہ استعمال کرتے ہوئے متعلقہ افسر کے خلاف غیر اہم درخواست جمع کرانے پر جرمانہ عائد کردیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ایف بی آر کی جانب سے مذکورہ درخواست محض کارروائی میں تعطل پیدا کرنا اور فریق کے جائز حق سے انکار کرکے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرنا ہے'۔

مزیدپڑھیں: قومی صحت ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست

بینچ نے فیڈرل سروس آف ٹریبونل (ایف ایس ٹی) کے 6 اگست 2019 کے حکم کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے دائر اپیل کو سنا تھا اور عدالت نے موجودہ معاملے میں فریق کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں عدالت عظمی نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ رقم عدالت کے اضافی رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرائی جائے اور درخواست گزار محمد شریف (21 گریڈ) کو ادا کی جانے والی رقم بھی جمع کرائی جائے۔

واضح رہے کہ محمد شریف ان لینڈ ریونیو سروس میں 21 گریڈ کے افسر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سماعت روکنے کی درخواست مسترد

محمد شریف ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) میں بطور فنانس ڈائریکٹر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد 19 گریڈ کے افسر کی حیثیت سے 15 اگست 2011 کو اسلام آباد میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں تعینات کیے گئے تھے۔

انہوں نے طریقہ کار کے مطابق آئی جے پی/ کارکردگی الاؤنس کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی جس میں محکمہ ٹیکس کی سلیکشن کمیٹی کے ذریعے انٹرویو ہونا تھا۔

اس دوران درخواست گزار محمد شریف وقتاً فوقتاً محکمے کو تحریری درخواست لکھتے رہے لیکن 7 برس میں بھی ایف بی آر مطلوبہ کمیٹی تشکیل دینے میں ناکام رہا۔

خیال رہے کہ مذکورہ الاؤنس سے بنیادی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے تاہم محمد شریف اس دوران احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور 21 گریڈ تک پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں: چین کی طبی اشیا فراہم کرنے کے لیے سرحد کھولنے کی درخواست

اس تمام معاملے پر عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران محمد شریف اعوان نے ایف بی آر پر الزام لگایا کہ محکمے کی غلطیوں کے نتیجے میں انہیں غیر قانونی کارروائیوں، تاخیر سے ہونے والے مالی نقصان اور ذہنی اذیت کی صورت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی ریمارکس دیے کہ درخواست گزار محمد شریف اعوان نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ 2010 میں پرفارمنس الاؤنس سے متعلق معاملے میں فیصلہ سنا چکی ہے اور ایف بی آر نے اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب عدالت عظمیٰ پہلے ہی معاملے پر فیصلہ سنا چکی ہے تو پھر محکمہ ٹیکس نے کیوں عرضی دائر کی؟


یہ خبر 26 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی