کورونا وائرس: علمائے کرام کی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

علمائے کرام نے صدر ممملکت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی— فائل فوٹو: اے پی پی
علمائے کرام نے صدر ممملکت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی— فائل فوٹو: اے پی پی

علمائے کرام نے صدر مملکت عارف علوی اور حکومت کو کورونا وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعرات کو صدر مملکت کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے تمام مکاتب فکر کے علما نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود افراد نے ذاتی طور پر شرکت کی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں ایک ماہ کے دوران متاثرین کی تعداد 1118 تک جاپہنچی

صدر مملکت کی جانب سے اجلاس کے دوران کورونا وائرس کا ملک میں پھیلاؤ روکنے کے لیے مصر کی الاظہر یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا فتویٰ پیش کیا گیا۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی صدر کو تجاویز پیش کیں۔

مشاورتی نشست میں صدر مملکت نے علما سے کورونا وائرس کی صورتحال پر گفتگو کی اور لوگوں میں اس مرض کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے سلسلے میں تعاون کی گزارش کی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی حکومت کی پاکستان سے حج معاہدے نہ کرنے کی درخواست

صدر مملکت نے علما کے اتحاد خصوصاً گزشتہ روز کراچی میں جاری کیے گئے فتوے کو سراہا۔

اس موقع پر علما نے صدر مملکت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی ہدایات پر کار بند رہیں گے اور انہوں مذہبی اجتماعات کی منسوخ اور مدرسہ کے طلبہ کو چھٹی دینے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کے 30 لاکھ بچوں کو چھٹیاں دے چکے ہیں اور عوام بحران سے بچاؤ کے لیے اللہ سے رجوع کریں اور عبادت کریں۔

علما نے کورونا وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات اور ضرورت مندوں کے لیے رفاہی اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹرز اور نرسوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اٹلی میں سب سے زیادہ 7 ہزار ہلاکتیں، عالمی سطح پر اموات 21 ہزار سے تجاوز

صدر مملکت نے علما کی جانب سے حکومتی اقدامات کی تائید پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مزید گزارش کی کہ علمائے کرام لوگوں کو درس دیں کہ وہ گھروں میں رہ کر نماز ادا کریں کیونکہ بحران سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلہ قائم کرنا ہے۔

صدر مملکت نے علمائے کرام کے حفاظتی تدابیر بارے متفقہ اعلامیے کو بھی سراہا جس پر علمائے کرام نے حکومتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا سے تحفظ کے اقدامات خوراک کی قلت کا باعث بنیں گے، ترجمان اقوام متحدہ

یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے مصر کے سفیر کی مدد سے جامع الاظہر سے کورونا وائرس کے حوالے سے باجماعت نماز اور نماز جمعہ کے اجتماعات کے حوالے سے رہنمائی طلب کی تھی۔

جامعہ الاظہر نے اس حوالے سے گزشتہ روز فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ باجماعت نماز اور عوامی اجتماعات سے کوورنا وائرس پھیل سکتا ہے اور اسلامی ممالک کی حکومتیں اس سلسلے میں یہ اجتماعات منسوخ کرنے کا حق رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک ایک ہزار 118 افراد وائرس سے متاثر اور 9 ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والے اس وائرس سے چین میں 3 ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک کو سخت احتیاطی تدابیر کی بدولت اس وائفرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔

البتہ بعدازاں یہ دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیلتا گیا اور اب تک وائرس کے نتیجے میں کم از کم 21 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں یورپ میں ہوئی ہیں۔