بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب لوگ پیدل ہی گھر لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب لوگ پیدل ہی گھر لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے ملک میں سوا ارب سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے جس کے باعث ملک کی غریب آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے اور پابندیوں کی وجہ سے روزگار کے خاتمے اور بھوک کے سبب مختلف شہروں سے آئے لوگ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے باعث 17 افراد ہلاک اور 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ملک میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں وائرس متاثرین ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد، اٹلی میں اموات 9 ہزار 134 ہوگئیں

بھارت میں پہلا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے بعد ماہرین صحت نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم مسلسل مطالبات کے باوجود بھارت میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے تاخیر کی گئی جس پر مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سندھانشو متل نے دعویٰ کیا کہ بھارت دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس وائرس کے خلاف سب سے تیز تر اور مؤثر کارروائی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ٹرمپ نے 22 کھرب ڈالر کے اقتصادی ریلیف پیکج پر دستخط کردیے

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تباہ کن صورتحال میں آپ صورتحال کا جائزہ لیے بغیر اور عالمی رائے عامہ جانے بغیر فوراً فیصلے نہیں کر سکتے لیکن ہم نے پھر بھی بہت جلد متعدد انتظامی فیصلے کیے۔

بھارت کی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے دعویٰٰ کیا کہ بھارت میں اب وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کا سلسلہ کم ہو گیا ہے تاہم اگر اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو ان کی یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ بھارت میں مسلسل کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے حامل ملک کے سب سے بڑے طبی تحقیقی ادارے 'دی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ' کے مطابق جمعہ کی صبح تک 27 ہزار688 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے تحقیقی ادارے کے مطابق 691 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

مزید پڑھیں: والد کے انتقال کے 24 گھنٹے بعد ہی بیٹی بھی کورونا وائرس سے ہلاک]3

واضح رہے کہ بھارت میں ایک دن میں سب سے زیادہ کسز جمعرات کو سامنے آئے تھے جب 88 افراد کے وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت میں اب تک متاثرہ افراد کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے ابتر نظام صحت کے سبب وائرس کا شکار افراد کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

تین امریکی یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ دہلی اسکول آف اکنامکس کی رپورٹ میں عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے پیش گوئی کی گئی ہے کہ بھارت میں مئی کے وسط تک 13 لاکھ افراد وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ماہرین نے حکومت سے ہر شہری کا کورونا کا ٹیسٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملک میں وائرس کا شکار افراد کی اصل تعداد کتنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کورونا وائرس سے کیسے بچ سکتا ہے؟ اعداد و شمار سے جانیے

بھارت میں اس وقت کورونا کے ٹیسٹ کے 104مراکز موجود ہیں جن میں روزانہ 8 ہزار نمونوں کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر دو لیبارٹیرز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر 1400 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ملک کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹریز کے ساتھ ساتھ طبی آلات کی بھی کمی کا سامنا ہے۔

بھارت میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ہسپتال کے 0.7 بستر موجود ہیں جہاں اس کی نسبت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے والے ملک جنوبی کوریا میں ایک لاکھ افراد کے لیے ہسپتالوں کے 6 بستر ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو وینٹی لیٹرز کی کمی کا بھی سامنا ہے جہاں ملک بھر میں ایک لاکھ وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور ان میں سے بھی اکثر نجی ہسپتالوں میں مریضوں کے زیر استعمال ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران: کورونا سے بچنے کے لیے زہریلا کیمیکل پینے سے 300 افراد ہلاک

دوسری جانب بھارت میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ملک میں پھنسے ہوئے تارکین وطن نے روزگار نہ ہونے کے سبب اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنا شروع کردیا ہے۔

بس ٹرین سمیت ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع بند ہونے کے سبب لوگ ہائی وے پر پیدل ہی سفر کر کے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے شاپنگ مال میں کام کرنے والے ٹھاکر نامی شخص نے بتایا کہ مرنے کے بجائے ہم نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تعمیراتی کام کے ذریعے روزانہ 4 ڈالر کمانے والے جما رتھوا بھی متاثرین میں شامل ہیں اور انہوں نے بھی پیدل سفر کرتے ہوئے گھر واپسی کی راہ لی۔

یہ بھی پڑھیں: آپ کو فلو ہے، نزلہ یا کورونا وائرس؟ پہچاننا بہت آسان

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ہمارے گاؤں میں گھر اور کھانے پینے کا انتظام تو ہو گا، یہاں صورت میں تو ہمارا کوئی بھی نہیں۔

نئی دہلی میں ڈرائیونگ کر کے کمانے والے بریندر نے کہا کہ ان کے اہلخانہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں 320 کلومیٹر دور اپنے گھر جلد از جلد پہنچ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ تین چار دن سے صحیح سے کھانا نہیں کھایا، مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ میں یہاں کھانے کے بغیر کیا کروں گا۔

دنیا میں کورونا وائرس کی صورت حال

عالمی سطح پر نوول کورونا وائرس کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس کے اواخر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں رواں ماہ سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

28 مارچ (آج) دوپہر ڈھائی بجے تک ویب سائٹ پر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اٹلی، اسپین اور چین میں تاحال سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں, مجموعی ہلاکتوں کی تعداد اٹلی میں 9 ہزار 134، اسپین میں 5 ہزار 138 اور چین (ووہان) میں 3 ہزار 177ریکارڈ کی گئیں۔

علاوہ ازیں امریکا میں وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 700 تک پہنچ چکی تھی۔

دنیا کے 10 ممالک میں 4 لاکھ 92 ہزار 775 افراد جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں ایک لاکھ 5 ہزار 407 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں، ان ممالک میں ترتیب وار امریکا، اٹلی، چین، اسپین، جرمنی، فرانس، ایران، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

اگر دنیا کے ان 10 ممالک کی بات کی جائے جہاں وائرس کی وجہ سے مجموعی طور پر 24 ہزار 817 اموات ہوئیں تو ان میں اٹلی، اسپین اور چین کا شہر ووہان سر فہرست ہیں جبکہ ایران میں 2 ہزار 378، فرانس میں ایک ہزار 995، برطانیہ میں 759، نیدرلینڈ میں 546، امریکا (نیویارک) میں 450، جرمنی میں 351 اور بیلجیئم میں 289 اموات ریکارڈ کی گئیں ہیں۔

دوسری جانب چین میں مقامی سطح پر کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس منظر عام پر نہیں آیا لیکن غیر ملکی یا غیر مقامی افراد میں کورونا وائرس کے طبی ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں۔