قیدیوں کی رہائی کا معاملہ، بار کونسلز کی ہائیکورٹ کے فیصلے کی حمایت

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2020

ای میل

سپریم کورٹ کا بینچ درخواست پر سماعت (30 مارچ) سے شروع کرے گا— فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ کا بینچ درخواست پر سماعت (30 مارچ) سے شروع کرے گا— فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان بار کونسل (پی بی سی) اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ بھی کورونا وائرس کے تناظر میں گنجان جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں (یو ٹی پیز) کی تکالیف کا نوٹس لے گی۔

واضح رہے کہ وکلا کی نمائندہ جماعتوں کی جانب سے مشترکہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عدالت عظمیٰ نے 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیارات سے متعلق درخواست پر سماعت کرے گا جس کے تحت عدالت عالیہ نے 20 مارچ کو ایک حکم کے ذریعے 408 زیر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت دی تھی۔

مزیدپڑھیں: قیدیوں کی رہائی، ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا بینچ تشکیل

سپریم کورٹ کا یہ 5 رکنی بینچ مذکورہ درخواست پر پیر (30 مارچ) سے سماعت شروع کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی بی سی کے وائس چیئرمین عابد ساقی اور ایس سی بی اے کے صدر سید قلبی حسن نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ وائرس پھیلنے سے قیدیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں اور اس معاملے میں فیصلے سے انسانی حقوق بالخصوص یو ٹی پیز کے تحفظ کے مقصد کو فروغ ملے گا۔

بار کونسل رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ کے کسی بھی فیصلے سے انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق انصاف کی فراہمی کے نظام میں یقیناً بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

بیان میں اڈیالہ جیل سے 408 قیدیوں کی مشروط رہائی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بارے میں کہا گیا کہ تمام بار باڈیز اور قانونی برادری نے فیصلے کو سراہا اور اس کی حمایت کی۔

مشترکہ بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ دیگر اعلی عدالتیں بھی انسانی بنیادوں پر ایسے ہی فیصلے / احکامات پاس کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وائرس کے پھیلنے سے پیدا ہونے والے مخصوص حالات میں انسان دوست اور ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

زیر سماعت قیدیوں کی رہائی

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر 1362 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی تھی۔

اس سے قبل 20 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے راولپنڈی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے زیر سماعت مقدمات میں قیدیوں کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی۔

مزیدپڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

بعد ازاں ہائیکورٹ کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جیل میں 2 ہزار 174قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت جیل میں 5 ہزار ایک قیدی ہیں جن میں ایک ہزار 362 یو ٹی پی ہیں۔

رپورٹ میں تسلیم کیا گیا تھا کہ بیشتر یو ٹی پی غیر ممنوعہ شق کے دائرے میں آتے ہیں اور متعدد سزا یافتہ قیدی 55 سال سے زیادہ عمر کے ہیں اور ان میں سے کچھ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کا علاج قید کے دوران نہیں کیا جاسکتا۔

جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس کا دائرہ کار اختیار کرتے ہوئے پیش کردہ رپورٹ کو دفعہ 561 اے سی آر پی سی کے تحت پٹیشن میں تبدیل کردیا تھا کیونکہ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اسے قومی آفت قرار دے چکی ہے۔

فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بینچ کی تشکیل

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل پانے والا بینچ مذکورہ درخواست پر سماعت پیر (30 مارچ) سے شروع کرے گا۔

سید نایاب حسن گردیزی نے راجا محمد ندیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں 6 صفحات پر مشتمل پٹیشن دائر کی جس میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکوٹ کے دائرہ اختیار میں ازخود نوٹس شامل ہے؟

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب میں کیسز 500 سے متجاوز، ملک میں تعداد 1500 ہوگئی

اپیل میں استدعا کی گئی کہ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم اختیارات کے منافی ہے کیونکہ یہ خالصتاً ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے تناظر میں یو ٹی پی کے معاملے پر نظر ثانی کرے۔

درخواست میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ آیا فوجداری ضابطہ اخلاق (سی آر پی سی) کے سیکشن 561-A کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے اختیارات غیرجانبدارانہ تھے یا پھر ان کا استعمال صرف ایسے حالات میں کیا جاسکتا ہے جہاں کوئی صریح قانونی احکامات موجود نہیں۔

اپیل میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 20 مارچ والے حکم سے غلطیاں پیدا ہوئیں کیونکہ وہ قانون، آئین اور پبلک پالیسی کے خلاف ہے۔