شام، نیوزی لینڈ، بولیویا و یوراگوئے میں کورونا سے پہلی ہلاکتیں

اپ ڈیٹ مارچ 30 2020

ای میل

شام میں ایک لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں — عالمی ادارہ—فوٹو: رائٹرز
شام میں ایک لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں — عالمی ادارہ—فوٹو: رائٹرز

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبا کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور 30 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں یورپی ممالک میں ہو رہی ہیں اور ہلاکتوں کے حوالے سے 10 ہزار 799 ہلاکتوں کے ساتھ اٹلی پہلے نمبر پر ہے جب کہ دوسرے نمبر پر اسپین ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 803 تک جا پہنچی۔

مجموعی طور پر دنیا بھر میں ہونے والی 34 ہزار سے زائد ہلاکتوں میں سے 20 ہزار تک ہلاکتیں یورپی ممالک میں ہوئی ہیں اور وہاں تیزی سے ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی ملک فرانس بھی 2600 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جب کہ کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض امریکا میں ہیں اور وہاں بھی ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

امریکا میں 30 مارچ کی صبح تک ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائد ہو چکی تھی جب کہ وہاں کورونا سے ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے تھے۔

کورونا وائرس 30 مارچ کی صبح تک اگرچہ 177 ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس سے دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 23 ہزار سے زائد ہو چکی تھی تاہم دنیا کے درجنوں ایسے ممالک ہیں جہاں تک تاحال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

لیکن گزرتے دن کے ساتھ جہاں دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں کئی ممالک میں اس سے پہلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہے۔

گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کم سے کم دنیا کے 4 ممالک نے اپنے ہاں کورونا کی وجہ سے پہلی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

خانہ جنگی کے شکار ملک شام کی حکومت نے 30 مارچ کو ملک میں پہلی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہلاک ہونے والی خاتون کچھ دن قبل ہی کورونا کا شکار ہوئی تھیں۔

شام میں پہلی ہلاکت

رائٹرز کے مطابق شامی وزارت صحت نے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی پہلی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 9 تک جا پہنچی ہے۔

شام میں پہلی ہلاکت کے بعد ہی صحت کے حکام اور وہاں کام کرنے والے عالمی فلاحی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو شام میں ہزاروں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

یورو نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں عالمی فلاحی ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کورونا کا پھیلاؤ یوں ہی جاری رہا تو شام میں ایک لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں، کیوں کہ وہاں کے ہسپتال اور صحت کا دیگر نظام کورونا کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔

نیوزی لینڈ میں پہلی ہلاکت

شام کی طرح نیوزی لینڈ کی حکومت نے بھی ملک میں کورونا کی وجہ سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث 70 سالہ خاتون ہلاک ہوگئیں۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر خاتون انلفوئنزا سے متاثر تھیں تاہم بعد ازاں ان میں کورونا کی بھی تشخیص ہوئی اور خاتون دوران علاج چل بسیں۔

نیوزی لینڈ میں 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد 589 تک جا پہنچی تھی تاہم وہاں پہلی ہلاکت سے ملک بھر میں خوف پھیل گیا۔

یوراگائے میں پہلی ہلاکت

جنوبی امریکا کے ملک یوراگائے میں اگرچہ چند ہفتے قبل ہی کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کردی گئی تھی تاہم وہاں بھی پہلی ہلاکت 29 اور 30 مارچ کی درمیانی شب کو ہوئی۔

یوراگائے کے وزیر صحت نے بتایا کہ کورونا وائرس سے 71 سالہ شخص ہلاک ہوگیا جو کچھ دن قبل ہی وبا کا شکار ہوا تھا۔

یوراگائے میں پہلی ہلاکت کے بعد ملک میں خوف پھیل گیا تاہم حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ ملک میں کورونا کا پھیلاؤ خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے۔

بولیویا میں پہلی ہلاکت

وسطی امریکا کے ملک بولیویا کی حکومت نے بھی کورونا کے باعث پہلی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 78 سالہ خاتون دوران علاج چل بسیں۔

بولیویا میں 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد 89 تک جا پہنچی تھی اور وہاں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کیسز سامنے آنے کی شرح انتہائی کم ہے، تاہم ملک میں پہلی ہلاکت سے خوف پھیل گیا۔

حکومت کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کو صحت کے دیگر مسائل بھی لاحق تھے۔