نیب کی میر شکیل الرحمٰن کو بھائی کی عیادت کیلئے کراچی جانے کی اجازت

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020

ای میل

نیب کا مزید کہنا تھا کہ ملزم یا ان کے اہلِ خانہ راہداری ریمانڈ کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
نیب کا مزید کہنا تھا کہ ملزم یا ان کے اہلِ خانہ راہداری ریمانڈ کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اراضی الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اپنے بھائی میر جاوید الرحمٰن کی عیادت کے لیے کراچی جانے کی اجازت دے دی۔

اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمٰن کو ’انسانی ہمدردی کی بنیاد‘ پر ان کے شدید علیل بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز میڈیا میں کچھ رپورٹس سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ میر جاوید الرحمٰن پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہیں اور انہیں طبیعت خراب ہونے پر نجی ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کی درخواست، نیب کو جواب جمع کرانے کا حکم

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمٰن اپنے بھائی کی عیادت کے لیے ایک یوم کے لیے کراچی جاسکتے ہیں لیکن اس دوران وہ بدستور نیب کی زیر حراست رہیں گے۔

ساتھ ہیں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ریمانڈ کے دوران ضمانت پر رہا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔

نیب کا مزید کہنا تھا کہ ملزم یا ان کے اہلِ خانہ راہداری ریمانڈ کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری

خیال رہے کہ 12 مارچ کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔

ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں: میر شکیل الرحمٰن کے جسمانی ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن متعلقہ زمین سے متعلق نیب کے سوالات کے جواب دینے کے لیے جمعرات کو دوسری بار نیب میں پیش ہوئے تاہم وہ بیورو کو زمین کی خریداری سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

نیب کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 1986 میں غیر قانونی طور پر یہ زمین میر شکیل الرحمٰن کو لیز پر دی تھی۔

واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی زمین سے متعلق بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 5 مارچ کو نیب میں طلب کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے میر شکیل الرحمٰن کے خلاف اراضی کیس میں نواز شریف کو طلب کرلیا

دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں گرفتاری کے اگلے ہی روز نیب نے انہیں احتساب عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جس میں 25 مارچ کو ہونے والی پیشی پر 13 روز کی توسیع کی گئی تھی۔