کورونا وائرس وبا: اسکائپ کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ

31 مارچ 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ اسکائپ
— فوٹو بشکریہ اسکائپ

دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 3 ارب کے قریب افراد گھروں کے اندر محدود ہوگئے ہیں تاکہ نئے نوول کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی رفتار کو سست کیا جاسکے۔

مگر اس کے نتیجے میں لوگوں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جیسے فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک نے ایک بلاگ میں بتایا 'ایمرجنسی کے دوران ہم ہر وہ چیز کررہے ہیں جو ہماری ایپس کو تیز، مستحکم اور قابل انحصار بنانے میں مدد دے، ہماری سروسز میں مخصوص ایونٹس جیسے اولمپکس یا نئے سال کا آغاز میں استعمال کی شرح میں اضافے کو دیکھا جاتا ہے، تاہم ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے اور تیاری کے لیے ہمارے پاس کافی وقت ہوتا ہے، مگر کووڈ 19 کے باعث استعمال کی شرح میں اضافے کی نظیر نہیں اور ہم لگ بھگ رواز ہی نئے ریکارڈز کا تجربہ کررہے ہیں'۔

ٹوئٹر میں بھی ایسا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس کے صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے بڑھ کر 16 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے۔

اب مائیکرو سافٹ نے بتایا ہے کہ اس کی ویڈیو چیٹ اور کالنگ ایپ اسکائپ کے استعمال میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کمپنی کے مطابق اب روزانہ 4 کروڑ افراد اسکائپ کو استعمال کررہے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے،

کمپنی کے مطابق اسکائپ ٹو اسکائپ کالز میں 220 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران اس کے صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے نائب صدر یوسف مہدی نے بتایا کہ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہنا پہلے کبھی اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکائپ میں حال ہی میں متعارف کرائے جانے والے فیچر میٹ نائو سے لوگوں کو ویب برائوزر پر ویڈیو میٹنگز کی سہولت ملی ہے، جس کے لیے دیگر افراد کو سائن اپ یا سافٹ وئیر ڈائون لوڈ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

فوٹو بشکریہ اسکائپ
فوٹو بشکریہ اسکائپ

کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ویڈیو چیٹ ایپس جیسے زوم، واٹس ایپ اور ایپل کے فیس ٹائم کے استعمال کی شرح بھی بڑھی ہے۔

دنیا بھر میں اس وبا کے دوران گھروں تک محدود کروڑوں افراد کی جانب سے انٹرنیٹ پر انحصار بڑھ چکا ہے، کیونکہ بیشتر گھر سے کام کررہے ہیں جبکہ کچھ اسے اپنے پیاروں سے رابطے کے ذریعے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ اسٹریمنگ سروسز کا استعمال بھی بڑھا ہے تاکہ لوگ وقت گزار سکیں۔

اس سلسلے میں یوٹیوب نے دنیا بھر میں ویڈیوز کا ڈیفالٹ ریزولوشن کم رکنے کا اعلان کیا ہے اور ایک ماہ تک اس پر عمل کیا جائے گا۔

گوگل کے ایک ترجمان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں حکومتوں اور نیٹ ورک آپریٹرز کے ساتھ کام کریں گے تاکہ اس صورتحال میں انٹرنیٹ پر دباؤ کو کم از کم کیا جاسکے۔

اس سے قبل نیٹ فلیکس نے بھی یورپ میں اسٹریمنگ کوالٹی کو 25 فیصد تک کم کیا جبکہ ایپل اور ایمیزون کی جانب سے یورپ میں ایسا کیا گیا۔

نیٹ فلیکس کی جانب سے پاکستان سمیت کئی ممالک میں بھی ایسا کیا گیا ہے۔