ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین کو وطن واپس لانے کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین کو واپس لانے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کی جانب سے ایران میں پھنسے زائرین کی واپسی کے لیے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ سیکڑوں ایسے زائرین ایران اور عراق میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے ویزے ختم ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران میں پھنسے زائرین کو واپس لانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ پالیسی معاملہ ہے اس میں عدالت مداخلت نہیں کرسکتی، آپ ایگزیکٹو اتھارٹی سے رابطہ کریں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ اخذ کرنا کہ سرکار کچھ نہیں کر رہی یہ غلط ہے، اس پر وکیل نے کہا کہ جن افراد کے ویزے ختم ہوچکے ہیں ان سے متعلق عدالت حکومت سے پوچھ سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزارت خارجہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

اس موقع پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا درخواست گزار نے وزارت خارجہ سے رجوع کیا ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کہ نہیں ہم نے وزارت خارجہ سے رجوع نہیں کیا۔

تاہم ساتھ ہی درخواست گزار کے وکیل نےکہا کہ میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سارے مسائل زائرین کی وجہ سے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی تنازع میں نہیں پڑے گی، یہ درخواست مسترد کرتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مذکورہ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ اس درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہزاروں پاکستانی زائرین ایران میں پھنسے ہیں جن کے ویزا کی مدت ختم ہو چکی ہے یا ہونے والی ہے، زائرین کو ایران جانے کے ویزے جاری کیے گئے لیکن اب انہیں واپس پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تاہم کورونا وائرس کے آنے کے بعد سے کافی تعداد میں لوگ تفتان سرحد کے ذریعے واپس آگئے لیکن بہت سے لوگوں کی وہاں موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے درخواست کی ہے زائرین کو اکٹھا نہ بھیجا جائے، وزیر خارجہ

لہٰذا درخواست میں بھی یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فریقین کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ زائرین کی بحفاظت وطن واپسی کے اقدامات کریں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک سامنے آنے والے کورونا کیسز میں ایک بڑی تعداد ایران سے آنے والی زائرین کی ہے جبکہ 26 فروری کو سندھ میں آنے والا پہلے کیس نے ایران کا سفر کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس فروری کے اختتام پر سامنے آیا تھا جس کے بعد صرف ایک ماہ میں متاثرین کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ 27 افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔