کورونا وائرس سے متاثر ماریہ بی کے ملازم کو قرنطینہ کردیا گیا

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

متاثرہ فرد کو قرنطینہ کردیا گیا—فائل فوٹو اے پی
متاثرہ فرد کو قرنطینہ کردیا گیا—فائل فوٹو اے پی

پاکستان کی نامور ڈیزائنر ماریہ بی کے ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے اسے اپنے گاؤں وہاڑی میں قرنطینہ کردیا گیا۔

پنجاب کے محکمہ صحت کے ترجمان قیصر آصف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملازم کو وہاڑی میں قرنطینہ کردیا گیا جبکہ اس دوران اس نے جن افراد سے ملاقات کی ان کے ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں۔

خیال رہے کہ منگل (24 مارچ) کو پنجاب پولیس نے ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید کے خلاف اپنے باورچی کو کورونا وائرس ہونے کے باوجود گاؤں بھیجنے اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ نہ کرنے پر ایف آئی آر درج کی تھی۔

ایف آئی آر نشتر کالونی اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 188 (سرکاری ملازمین کی جانب سے نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے)، 270 (خطرناک بیماری یا انفیکشن کو پھیلانے) اور 271 (قرنطینہ کے قانون کی خلاف ورزی) اور 2002 کے پولیس قانون آرٹیکل 143 اور 144 کے تحت درج کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر پر ہزاروں زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا الزام، مقدمہ درج

ایف آئی آر کے مطابق طاہر سعید نے یہ جاننے کے باوجود کہ ان کا ملازم کورونا سے متاثر ہے، اسے ہسپتال لے جانے کے بجائے بس کے ذریعے گاؤں بھیج دیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے آگاہ بھی نہیں کیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ڈیزائنر ماریہ بی وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتی نظر آئیں، انہوں نے پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے گھر پر اس طرح چھاپہ مارا جیسے یہاں کوئی منشیات مافیا کا سب سے بڑا ڈان رہتا ہو۔

ماریہ بی نے بعدازاں ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ان کے ہمراہ ان کے شوہر طاہر سعید بھی موجود تھے۔

ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید نے ویڈیو میں بتایا تھا کہ پولیس نے انہیں ہراساں کیا اور رات ساڑھے 12 بجے ان کے گھر میں گھس کر انہیں گرفتار کیا۔

تاہم لاہور پولیس کے ترجمان نے بیان میں ڈیزائنر اور ان کے شوہر کی جانب سے پولیس پر کی گئی تنقید کو بےبنیاد ٹھہرایا۔

پولیس ترجمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ماریہ بی کے شوہر نے سب کو جاننے کے باوجود اپنے ملازم کو اس کے گاؤں بھیج دیا اور ان کی اس حرکت سے ہزاروں معصوم لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ طاہر سعید اس وقت ضمانت پر رہا ہیں۔