مرکزی بینک صنعتوں سے اثاثے اور اشیا خریدے، کاروباری برادری کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کاروباری برادری کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کی - فائل فوٹو:ڈان
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کاروباری برادری کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کی - فائل فوٹو:ڈان

کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مشکلات کا شکار صنعتوں کے لیے اثاثے اور اشیا خریدنے اور شرح سود کو مزید کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرے جس کے ساتھ ساتھ لیکویڈٹی کے چیلنجز اور کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ٹیکس ریفنڈز کی فوری کلیئرنس بھی کی جائے گی۔

وزرا کی ٹیم کے ساتھ ملاقات میں معروف تاجروں نے حکومت کو کوریئر سروس اور آن لائن کاروبار کی بحالی کی تجویز بھی دی تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائزز (ایس ایمم ایز) کو اس مشکل وقت کو گزارنے میں مدد مل سکے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کاروباری برادری کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ: تاجروں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کردیا

معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں کے نمائندگان نے کہا کہ وہ اپنی ورک فورس کو 2 سے 3 ماہ تک برداشت کرسکتے ہیں تاہم اگر صورتحال طویل عرصے تک ایسی رہی تو حکومت کو ان کے تحفظ کے لیے آگے آنا ہوگا۔

انہوں نے تجویز دی کہ چین اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے مرکزی بینکس مشکل وقت کا سامنا کرنے والی کمپنیوں کے اثاثے، حصص اور اشیا خرید رہے ہیں جو صنعت اور حکومت دونوں کے لیے بہتر ہے جبکہ اسٹیٹ بینک اس دوڑ میں پیچھے ہے۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری نے حکومت کا تعاون طلب کیا اور زیرو ریٹڈ یا کم از کم 70 فیصد انپٹ ٹیکس ریفنڈز کا مطالبہ کیا۔

برآمداتی شعبے نے ڈالروں کی قلت کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقصان کو بھی نمایاں کیا اور بتایا کہ ان کے پاس ایک ماہ سے زائد کے لیکویڈٹی نہیں ہے۔

انہوں نے حکومت سے ان کے 30 سے 40 فیصد تک کا بل برداشت کرنے کا بھی کہا۔

اجلاس کے شرکا کے ایک حصے نے حکومت کو یہ بھی بتایا کہ مرکزی بینک کی جانب سے حالیہ شرح میں کمی ناکافی ہے اور کرنسی کی قدر میں کمی بھی مددگار نہیں جب تک حکومت کا غیر ملکی زرمبادلہ پر مضبوط کنٹرول نہ ہو۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ان کے قرضوں کی تاخیر سے ادائیگی اور سود کو 3 ماہ کے بجائے 6 سے 12 ماہ تک ادائیگی کا اعلان کرے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: مارچ میں 200 ارب روپے محصولات کا شارٹ فال

ایک معروف تاجر نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو بتایا کہ ان کی فروخت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے جس سے لیکویڈٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے جس سے ان پر لگائے گئے اضافی یوٹیلیٹی بلز کو کمپنیاں ریفنڈ کردیں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے برآمدی آرڈرز کے لیے تیار اشیا کے ٹرانسپورٹیشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر حکومتی مداخلت کا بھی مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کاروباری برادری کو فیکٹری ورکرز کے لیے 200 ارب روپے کے بہترین استعمال اور چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں اور زراعت کے لیے 100 ارب روپے کے بہترین استعمال پر تجویز دینے کا بھی کہا۔