وہ غریب ممالک جو اب تک کورونا سے محفوظ ہیں

03 اپريل 2020

ای میل

جنوبی سوڈان میں تاحال کوئی کیس سامنے نہین آیا—فوٹو: اے ایف پی
جنوبی سوڈان میں تاحال کوئی کیس سامنے نہین آیا—فوٹو: اے ایف پی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2 اپریل کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے سے بڑھ جانے پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وبا سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے سے روابط بڑھانے سمیت خاطر خواہ اقدامات بھی کریں۔

کورونا وائرس سے 3 اپریل کی صبح تک دنیا کے 181 ممالک، ریاستیں و جزائر متاثر ہو چکے تھے اور اس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 16 یزار سے زائد ہو چکی تھی، جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ کر 53 ہزار سے زائد ہو چکی تھیں۔

کورونا وائرس سے جہاں پر امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، سوئٹزرلینڈ، بھارت، اٹلی و اسپین جیسے امیر و ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں، وہیں دنیا کے چند غریب و دیگر بیماریوں کے شکار ممالک 3 اپریل کی صبح تک محفوظ تھے۔

ایسے ممالک میں مشرق وسطیٰ ملک یمن، افریقی ملک جنوبی سوڈان، لیسوتھو، کومروس اور ساؤ ٹوم اینڈ پرنسائپ جیسے غریب، مقروض اور دیگر بیماریوں کے شکار ممالک شامل تھے۔

علاوہ ازیں شمالی کوریا کی حکومت نے بھی 2 اپریل کو دعویٰ کیا تھا کہ تاحال ان کے ملک میں کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

اگرچہ تاحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ مذکورہ غریب و بیماریوں کے شکار ممالک میں کورونا کا کوئی کیس کیوں رپورٹ نہیں ہوا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر کورونا کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے ہوں گے۔

کورونا وائرس کے اعداد و شمار کے آن لائن میپ کے مطابق 3 اپریل کی صبح افریقی ملک ملاوی نے بھی پہلے تین کیسز کی تصدیق کی جب کہ وسطی افریقی ملک سیری لیونے نے بھی 2 اپریل کی صبح کو پہلے کیس کی تصدیق کی۔

افریقن نیوز کے مطابق 2 اپریل تک ملاوی سمیت براعظم کے کم سے کم 5 غریب ممالک میں کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا مگر 3 اپریل کو حکومت نے تین کیسز کی تصدیق کی۔

اسی طرح وسطی افریقی ملک نے سیری لیونے نے بھی 2 اپریل کو پہلے کیس کی تصدیق کی، تاہم اب بھی جنوبی سوڈان، لیسوتھو ،کومروس اور ساؤ ٹوم اینڈ پرنسائپ جیسے ممالک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں۔

مذکورہ افریقی ممالک مین 3 اپریل کی صبح تک کورونا کا کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا جب کہ افریقہ بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 70 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی اور وہاں کے 50 سے زائد ممالک اس وبا سے متاثر ہوچکے تھے۔

مذکورہ غریب اور بیماریوں کے شکار افریقی ممالک کی طرح خانہ جنگی، قحط سالی اور دیگر بیماریوں کے شکار ملک یمن میں بھی 3 اپریل تک کوئی کیس رپورٹ نہین ہوا تھا جب کہ اس کے پڑوسی ممالک سعودی عرب اور عمان میں ڈیڑھ ماہ قبل ہی کورونا کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

یمن کی طرح ایشیائی ملک شمالی کوریا سے بھی کورونا کے کسی کیس کی تصدیق نہیں کی گئی اور وہاں کی حکومت نے 2 اپریل کو دعویٰ کیا کہ ان کا ملک اب تک وبا سے محفوظ ہے، لیکن عالمی برادری کو شمالی کوریا کے دعوے پر شدید تحفظات ہیں۔

ایشیائی ملک منگولیا، تیمور اور لاؤس میں بھی خطے کے دیگر ممالک سے کم سے کم 2 ماہ بعد کیسز سامنے آئے تھے

لاؤس، تیمور، منگولیا اور میانمار نے گزشتہ ماہ مارچ کے وسط میں اپنے ہاں پہلے کیسز کی تصدیق کی تھی جب کہ ان ممالک کے پڑوسی ممالک میں فروری کے وسط میں ہی کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے تھے، تاہم ان ممالک میں اب بھی کورونا کے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

تین اپریل تک منگولیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 14 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں پہلے مریض کی تصدیق مارچ کے وسط میں کی گئی تھی اور وہاں تاحال کوئی بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔

اسی طرح میانمار میں مریضوں کی تعداد 3 اپریل تک 20 تک جا پہنچی تھی اور وہاں بھی پہلے کیس کی تصدیق مارچ کے وسط میں کی گئی تھی، لاؤس میں 10جب کہ تیمور میں تاحال ایک ہی کیس سامنے آ سکا ہے اور وہاں مذکورہ کیس مارچ کے وسط میں ہی سامنے آیا تھا۔