وزیر اعظم نے تعمیراتی شعبے کیلئے پیکج کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

وزیراعظم کے مطابق تعمیرات کو صنعت کا درجہ دے رہے ہیں —فوٹو:ڈان نیوز
وزیراعظم کے مطابق تعمیرات کو صنعت کا درجہ دے رہے ہیں —فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں ہونے والے معاشی نقصانات کو ریلیف پہنچانے کے لیے تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس سے خطرہ ہے اس لیے عوام بھرپور توجہ دیں۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو پیکج سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'زراعت کے بعد تعمیرات کا شعبہ ایسا ہے جس میں لوگوں کو روزگار دیا جاسکتا ہے'۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا تعمیراتی صنعت کی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ 'تعمیرات ایسی صنعت ہے جس کے ساتھ ساتھ معیشت کا پہیہ چلے گا لیکن ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ ہمارے دیہاڑی دار مزدور کو روزگار ملے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ دو ہفتے کے بعد کیا ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس معاف کردیا اور صرف اسٹیل اور سیمنٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ تعمیرات کے شعبے میں شامل دیگر چیزوں پر ٹیکس معاف کردیا ہے۔

ملک بھر میں تعمیراتی ٹیکس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم صوبوں سے رابطہ کررہے ہیں اور ان سے مل کر سیلز ٹیکس میں کمی لارہے ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا تمام ٹیکسز 2 فیصد پر لے آئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب سے اگر کوئی خاندان اپنا گھر بیچے گا تو اس پر کیپٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہوگا'۔

وزیراعظم نے کہا کہ '30 ارب روپے کے نیا پاکستان اسکیم کے لیے سبسڈی دے رہے ہیں اور اسے آگے بڑھائیں گے'۔

کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ ہم تعمیرات کو صنعت کا درجہ دے رہے ہیں اور آج سے یہ صنعت ہوگی اور اس کے لیے میں 'کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ' کے قیام کا اعلان کررہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے بھی 'معاشی ریلیف پیکج' کی منظوری دے دی

عمران خان نے کہا کہ 'پاکستان میں پہلی دفعہ ہے کہ تعمیرات کی صنعت کے لیے ایک بورڈ قائم ہوگا جس کا کام ہی اپنی صنعت کو پروموٹ کرنا ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں سے رابطہ کرکے ان کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے، جو صوبہ سمجھتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی لائی جائے تو ہم اس پر بھی غور کریں گے لیکن پنجاب اور خبیر پختونخوا اس اسکیم کے تحت چل رہے ہیں اور سندھ بھی کسی حد تک اس پر عمل کررہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'اس پیکج کے دو مقاصد تھے، سب سے بڑا مقصد مزدور طبقے کو ریلیف دینا تھا اور احساس پروگرام کے ذریعے ایک، ایک خاندان کو 12، 12 ہزار روپے پہنچارہے ہیں جو ایک دو دن میں شروع ہوجائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'دیہاتوں میں زرعی شعبے کو سرگرم ہونے کی پوری اجازت دی ہے اور ایسا ہی اقدام شہروں میں تعمیرات کے شعبے کے لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ شہر میں مزدوروں کو روزگار مل سکے'۔

وائرس سے خطرہ ہے، عوام بھرپور توجہ دیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'پاکستان میں ایک طرف کورونا ہے اور دوسری طرف بھوک ہے اور ہمیں خوف ہے کہ یہاں لوگ بھوک سے مریں گے، یہی صورت حال ہندوستان میں ہے اور دیگر ممالک کو بھی یہی خطرہ ہے'۔

مزید پڑھیں:کورونا سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی، رپورٹ

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان میں لاک ڈاؤن کی بات کریں تو یہ نہ سوچیں کہ ڈیفنس یا گلبرگ یا امیر علاقے میں لاک ڈاؤن ہوگا لیکن لاک ڈاؤن کامیاب تب ہوگا جب غریب علاقے میں بھی لاک ڈاؤن ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وائرس جب پھیلنا شروع ہوتا ہے پھر امیر اور غریب میں تمیز نہیں کرتا پھر برطانیہ کا وزیراعظم بھی لپیٹ آجاتا ہے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'ضروری ہے کہ بحیثیت قوم ردعمل آئے اس لیے قوم فیصلہ کرے کہ اس کا جواب کس طرح دینا ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ جب غریب علاقے میں لاک ڈاؤن کریں گے تو وہاں لوگوں کو کھانا پہنچا سکیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'چین میں ووہان میں لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچایا گیا اور چین میں کامیابی کا راز یہی تھا کہ لوگوں کو گھروں میں ہی کھانا پہنچایا گیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ جب غریبوں کو کھانا دینے جاتے ہیں تو لوگ حملہ کرتے ہیں ہم نے 1200 ارب کا پیکج دیا ہے اور 150 ارب روپے جاری کردیئے ہیں'۔

کورونا وائرس کے حوالے سے پیکج پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'جو شہری مدد چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہمیں ایک کروڑ افراد کی درخواستیں بھی موصول ہوچکی ہیں، اس کے باوجود ہمیں کوئی گارنٹی نہیں ہے 2 یا 4 ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورت حال ہوگی'۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ: تاجروں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کردیا

وزیراعظم نے کہا کہ 'فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ایک طرف ہمارا زراعت کا شعبہ اور دیہات میں اس شعبے کو کام کرتا رہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہیں کوئی رکاؤٹ آئے جیسا کہ اس وقت فصل کی کٹائی کا موسم ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دیہی علاقے میں روزگار کا اہم شعبہ زراعت، جس کو ہم نے مکمل طور پر کام کی اجازت دے رکھی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی سپلائی، کھانے اور ریستورنٹ کا شعبہ بھی کھلا ہوا ہے اسی طرح ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی کام کی اجازت دی ہے تاکہ اشیا کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اسکول، شادیاں اور جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں وہاں لاک ڈاؤن ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اس حوالے سے 14 اپریل کو جائزہ لیں گے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'یہ سمجھنا کہ پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں اس لیے اموات کم ہوئی ہیں تو یہ سوچ ہی خطرناک ہے، بالکل خطرہ ہے اور عوام سے کہتا ہوں کہ پوری توجہ دیں اور ہر قسم کی احتیاط کریں'۔

'22 کروڑ عوام کو لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے'

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہروں کے اندر حالات بہت برے ہیں اور یہ صرف ہمارے نہیں پوری دنیا کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برازیل کے صدر بھی کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایک طرف ملک بند کردیا لوگوں کے معاشی حالات بگڑتے جارہے ہیں اور بھوک ننگ آرہی ہے تو اس میں توازن لے کر آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بجلی اور گیس کے واجب الادا بل 3 ماہ بعد ادا کیے جاسکتے ہیں، مشیر خزانہ

عمران خان نے کہا کہ 'ہمارے پاس یہ چیلنج ہے، ایک طرف کورونا ہے اور ایک طرف بھوک ہے اس کے علاوہ ایک بڑی آبادی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ '22 کروڑ لوگوں کو ہم بند نہیں کرسکتے، یہ ناممکن چیز ہے، ہم غریب گھرانوں کو دو تین ہفتے کے بعد کیسے کہہ سکتے ہیں اگر وہ بھوکے ہیں تو بند رہیں اس کے لیے یہ پیکج لے کر آئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول میں بیٹھ کر ہم مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، 36 افراد جاں بحق ہوئے ہیں تو ان کے عمر کے گروپ اور بیماری کی نوعیت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

صحافیوں کو صرف کورونا وائرس سے متعلق سوالات پر توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ '14 تاریخ کو یہ تعمیراتی شعبہ کھل جائے گا جس کا آج اعلان کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے اور توازن قائم رہے'۔