حکومتِ پنجاب نے چند کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

نوٹیفکیشن میں حکومت نے ٹیکسٹائل سے منسلک 36 اقسام کے کاروبار کھولنے کی اجازت دی—تصویر: اے ایف پی
نوٹیفکیشن میں حکومت نے ٹیکسٹائل سے منسلک 36 اقسام کے کاروبار کھولنے کی اجازت دی—تصویر: اے ایف پی

حکومت پنجاب نے کورونا وائرس کے باعث کیے گئے احتیاطی اقدامات کے تحت بند ہونے والے مختلف اقسام کے کاروبار کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینا شروع کردی ہے تاکہ مطلوبہ شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صوبے میں زندگی کو معمول پر لایا جاسکے۔

صوبائی حکومت گزشتہ چند روز کے دوران 3 مختلف حکم ناموں کے ذریعے متعدد صنعتوں اور مختلف قسم کے کاروبار کو دفعہ 144 سے مستثنٰی قرار دے چکی ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ صوبے میں وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے احتیاطی اقدام کے طور پر دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے انٹرنل سیکیورٹی ونگ سے 3 اپریل کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ٹیکسٹائل سے منسلک 36 اقسام کے کاروبار، کھیلوں کی اشیا کے 10، آلاتِ جراحی کے 7، گاڑیوں کے پرزوں کے 3، ادویات سازی کے 25، چمڑے کی صنعت سے منسلک 22، پھلوں اور سبزیوں سے متعلق 7، گوشت اور گوشت سے بنی اشیا یا صنعتوں سے منسلک 8 کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی پیش کردہ سہولتیں جانتے ہیں؟

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’ان صنعتوں، کمپنیوں، فیکٹریوں سے متعلق تمام سرگرمیاں اور انہیں سامان فرہم کرنے والے کم سے کم عملے کے ساتھ صنعت، تجارت، سرمایہ کاری اور اسکلز ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت کووِڈ 19 کے خلاف احتیاطی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے صوبے بھر میں 23 مارچ کو نافذ کی گئی دفعہ 144 سے مستثنٰی ہیں'۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنل سیکیورٹی ونگ نے اسی روز ایک اور نوٹیفکیشن جاری کر کے صوبے میں کپڑوں کی دھلائی اور ڈرائی کلیننگ کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی۔

بعدازاں 4 اپریل کو محکمے نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا اور صوبے بھر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کی برانچز کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی۔

اس حوالے سے جاری نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ ’ایکسچینج کمپنیوں کی برانچز/آؤٹ لیٹس کو بینکوں کی طرح ایک اہم مالیاتی سروس فراہم کرنے کی حیثیت سے اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت ہے، لہٰذا ان ایکسچینج کمپنیوں سے منسلک تمام سروسز وائرس کے خلاف احتیاطی اقدامات اٹھاتے ہوئے جاری رکھی جائیں‘۔

مزید پڑھیں: سندھ: لاک ڈاؤن کے خلاف صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھنے لگا

اس ضمن میں ڈان سے بات کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے عہدیدار نے بتایا کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بند کیے گئے کاروبار بتدریج کھولنے کے لیے بھی یہی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے علم نہیں کہ حکومت لاک ڈاؤن میں (14 اپریل کے بعد) توسیع کرے گی یا نہیں، میرا یہ خیال ہے کہ وہ اس صورتحال کو ختم کرنے کی شدید خواہاں ہے جس سے عوام گزر رہے ہیں‘۔

عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کووِڈ 19 کی صورتحال خراب نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں مزید کاروبار کھولنے کی اجازت متوقع ہے۔


یہ خبر 6 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔