بندشوں کے باوجود چند ہفتوں میں نظام صحت کا امتحان شروع ہوجائے گا، اسد عمر

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020

ای میل

اسد عمر نے کہا کہ لاک ڈاؤن پر سکتی سے عمل کرنے سے بہتری نظر آئی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
اسد عمر نے کہا کہ لاک ڈاؤن پر سکتی سے عمل کرنے سے بہتری نظر آئی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور بندشوں کی بدولت کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیابی مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود آنے والے ہفتوں میں نظام صحت کا امتحان شروع ہو سکتا ہے۔

اس عمر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جانب سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے سلسلے میں جو احکامات اور ہدایات دی گئی تھیں اس پر پاکستانی قوم بہت حد تک عمل کر رہی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں مزید 259 کیسز کی تصدیق، مجموعی تعداد 3123 سے متجاوز، اموات 45 ہوگئیں

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر نظم و ضبط کی کمی کی مہر ثبت ہے لیکن پاکستانی قوم ثابت کر رہی ہے کہ مشکل وقت میں قوم اور معاشرے کی بہتری کی بات آئے تو ہماری قوم خود پر ڈسپلن بھی نافذ کر لیتی ہے۔

البتہ انہوں نے انتباہ جاری کیا ایسا نہ ہو کہ جو بہتری نظر آ رہی ہے اس کے بعد لوگ مطمئن ہو جائیں اور لاک ڈاؤن کو جاری نہ رکھیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو نقصان ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ہم اس نظم و ضبط کو جاری رکھیں گے تو ہی بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور امید ہے کہ ہمیں اس میں پوری طرح کامیابی حاصل ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کرگئی

انہوں نے بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام کی مشاورت کے ساتھ لاک ڈاؤن کو 14اپریل تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا اور ہم نے جائزہ لیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے یا اس میں کمی کے حوالے سے کامیابی ہو رہی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بیماری پھیل نہیں رہی ہے، کمی کا مطلب یہ ہے کہ جس تیزی سے یہ بیماری پھیل سکتی تھی، اگر بندشیں نہ ہوتیں، احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جاتیں تو اس کے مقابلے میں پھیلاؤ کافی کم ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ بری خبر یہ ہے کہ وائرس کے کم پھیلاؤ اور بندشوں کے باوجود ہمیں آج سے چند ہفتے آگے یہ نظر آ رہا ہے کہ ہمارے صحت کے نظام کا امتحان شروع ہو جائے گا اور یہ کم پڑ سکتا ہے لیکن فی الحال ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے تاہم آگے ہمیں یہ خطرہ نظر آ رہا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل، پائلٹس کا جہاز اڑانے سے انکار

انہوں نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمزور طبقے پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ وائرس کے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو طویل عرصے تک برداشت کرنا مشکل ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ان بندشوں کی وجہ سے خصوصاً ان افراد پر معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو صاحب ثروت نہیں ہیں، غریب دیہاڑی دار طبقے کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے اور ان اثرات کو بھی بہت عرصے تک برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہماری کورونا کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بہت محدود تھی لیکن اب ہم اپنی صلاحیت بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور پچھلے چار دن میں روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کی تعداد میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے اور آگے بھی اس صلاحیت کو تیزی سے بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ: ڈاکٹرز کا 'حفاظتی اقدامات' کے بغیر ڈیوٹی نہ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایمرجنسی اور آئی سی یو میں کام کرنے والے طبی عملے کی حفاظت کرنی ہے کیونکہ انہی کے ذریعے ہمیں دوسرے لوگوں کی حفاظت اور علاج کرنا ہے، یہ ہمارے سپاہی اور ہراول دستہ ہے جس کو ہمیں حفاظت سے رکھنا ہے اور ان کے لیے انتظامات میں تیزی سے اضافہ کیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے رضاکارانہ پروگرام میں بھی لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کا اعادہ کیا ہے اور ایک کروڑ 20لاکھ غریب ترین افراد تک پہنچنے کا نظام بھی باقاعدہ بنایا جا چکا ہے۔

اسد عمر نے مزید واضح کیا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ 14اپریل کے بعد بندشوں میں اضافہ کیا جائے گا یا نہیں اور یہ فیصلے آنے والے ہفتے میں لیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کبھی ہمت نہیں ہارنا چاہتے تو یہ فلمیں دیکھیں

یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور ملک کے اکثر حصوں میں مکمل یا جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب ملک میں 3ہزار 123افراد متاثر اور 45 افراد وفات پاچکے ہیں۔

تاہم خوش قسمتی سے پاکستان میں وائرس دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ یتزی سے نہیں پھیل رہا جہاں اب تک دنیا بھر میں 66ہزار سے اموات اور 12لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔