شبر زیدی فارغ، نوشین جاوید ایف بی آر کی نئی سربراہ تعینات

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2020

ای میل

شبر زیدی ایف بی آر کے اعزازی چیئرمین کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
شبر زیدی ایف بی آر کے اعزازی چیئرمین کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

حکومت نے شبر زیدی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے نوشین جاوید امجد کو نیا چیئرپرسن تعینات کردیا۔

نوشین جاوید امجد ان لینڈ ریونیو سروس کی 22 ویں گریڈ کی افسر ہیں جو اس وقت (ایڈمنسٹریشن) رکن کے طور پر تعینات ہیں۔

ادھر وفاقی کابینہ کی جانب سے سرکولیشن کے ذریعے نئی چیئرپرسن ایف بی آر کی سمری کی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھیں: شبر زیدی کے دوبارہ چھٹیوں پر جانے سے ایف بی آر غیر یقینی صورتحال کا شکار

اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹفیکیشن کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے 'متفقہ طور پر تجویز' دی کہ نوشین جاوید امجد کو نیا چیئرمین تعینات کرنا چاہیے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ شبر زیدی کو 2 سال کے عرصے کے لیے اعزازی بنیادوں پر چیئرپرسن تعینات کیا گیا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نوٹیفکیشن
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نوٹیفکیشن

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں طبعیت ناساز ہونے پر شبر زیدی غیرمعینہ مدت کے لیے چھٹیوں پر چلے گئے تھے جس کے بعد نوشین جاوید امجد قائم مقام چیئرپرسن کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھیں۔

جب شبر زیدی سے اس وقت رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے ڈان کو بتایا تھا کہ وہ کراچی میں ہیں اور علاج کی وجہ سے چھٹیوں پر ہیں۔

شبر زیدی کے چھٹیوں پر جانے سے قبل ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحیظ شیخ اور دیگر سینئر حکام سے ملاقات کی تھی اور انہیں غیرمعینہ مدت تک چھٹیوں پر جانے کے بارے میں بتایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 3 ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں 16 فیصد اضافہ ہوا، شبر زیدی

خیال رہے کہ 9 مئی 2019 کو وفاقی حکومت نے شبر زیدی کی دو سال کے لیے وفاقی ریونیو بورڈ کے اعزازی چیئرمین کے طور پر تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا۔

شبر زیدی کی بطور چیئرمین تعیناتی کے فیصلے پر ایف بی آر کے اندر سے ہی سخت تنقید سامنے آئی تھی اور وہاں موجود ان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

جس کے بعد ان کی تعیناتی کو عدالت عالیہ میں چیلنج بھی کیا گیا تھا جبکہ ان کے دور میں ہی تاجروں کی جانب سے پالیسیوں کے خلاف 2 مرتبہ ملک گیر ہڑتال بھی کی گئی تھی۔