اس سے بدترین وقت کبھی نہیں دیکھا، انور مقصود

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

پاکستان کے نامور مصنف انور مقصود — فوٹو: فیس بک
پاکستان کے نامور مصنف انور مقصود — فوٹو: فیس بک

پاکستان کے نامور مصنف اور میزبان انور مقصود حالات حاضرہ پر ہمیشہ ہی نہایت تنقیدی اور مزاحیہ انداز میں رائے کا اظہار کرتے ہیں، تاہم اس بار حالات حاضرہ پر بات کرتے ہوئے ان کا انداز پہلے سے کافی منفرد نظر آیا۔

دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے حوالے سے انور مقصود نے ڈان کو دیے ایک انٹرویو میں بات کی۔

انور مقصود کا کہنا تھا کہ ’مجھے آج کل ٹیلی ویژن پر کھانے پکانے کے تیل کے اشتہارات دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، ان اشتہارات میں لوگ بہترین پکوان تیار کرتے نظر آتے ہیں، میں ٹی وی چینلز سے درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت اس قسم کے اشتہارات نشر نہ کیے جائیں، پاکستان میں اس وقت بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے گھروں میں کھانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں‘۔

مزید پڑھیں: ہمارے انور مقصود

اگر دیکھا جائے تو انور مقصود نے اپنی زندگی میں جنگیں اور سیاسی انتشار بھی دیکھا تاہم وہ موجودہ وقت کو سب سے بدترین قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سے بدترین وقت نہیں دیکھا، پوری دنیا صرف ایک چھینک اور کھانسی کے ڈر سے گھروں میں محصور ہے‘۔

انور مقصود کے مطابق ’لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے، پوری دنیا میں ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے، عبادت گاہیں بند کی جارہی ہیں، تو پھر مساجد کیسے بند نہیں ہوں گی؟ ہمارے گھروں کے دروازے کیسے بند نہیں ہوں گے؟ اگر ہم ابھی خیال کرلیں گے تو سب کچھ جلد واپس کھل جائے گا‘۔

جب ان سے لاک ڈاؤن کے باعث مقامی سینما اور ٹی وی کے متاثر ہونے پر بات کی گئی تو انہوں نے اس پر نہایت مزاحیہ انداز میں ردعمل دیا۔

انور مقصود نے کہا کہ ’ٹی وی اور سینما کا بند ہونا یقیناً بہترین ہے، لاک ڈاؤن کے باعث نئی پروڈکشن نہیں ہوگی، یہی ٹی وی اور سینما کے لیے بہتر ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: انور مقصود سے معذرت کے ساتھ!

انور مقصود لاک ڈاؤن کے دوران وقت کس طرح گزار رہے ہیں؟ کہ سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’میں اپنی صحت کا خیال رکھ رہا ہوں، پینٹنگ کررہا ہوں اور نئے نئے پکوان بنانا سیکھ رہا ہوں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ اس مشکل کی گھڑی میں خدا سے رجوع کررہے ہیں۔

اس موقع پر کچھ تحریر کرنے کے سوال پر انور مقصود نے کہا کہ ’میں کچھ مزاحیہ لکھنے کی کوشش کر بھی لوں تو شاید اسے پڑھ کر ہنسی نہیں آئے گی‘۔