کورونا وائرس کے پیشِ نظر چمن پر پاک-افغان سرحد 7 روز کیلئے بند

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2020

ای میل

سرحد بند کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ نے افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا — تصویر: ڈان
سرحد بند کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ نے افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا — تصویر: ڈان

کوئٹہ: پاکستان نے افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز سامنے آنے پر چمن کے مقام پر پاک افغان سرحد 7 روز کے لیے بند کردی۔

چمن بارڈر کے علاوہ ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر تفتان بارڈر پہلے ہی بند کردیا گیا تھا اس کے علاوہ دونوں ممالک کے ساتھ موجود دیگر کراسنگ پوائنٹ بھی بند کردیے گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس دوران کسی کو بھی سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور افغان حکومت کو بھی فیصلے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ملک کے 4 ایئرپورٹس پر خودکار تھرمل اسکینرز نصب

سرحد بند کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ نے افغانستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ ’متعلقہ حکام نے ابتدائی طور پر 7 روز کے لیے 2 مار چ سے پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ ہے تاکہ سرحد کے دونوں اطراف کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے جو دونوں برادر ممالک کے عوام کے بہترین مفاد میں ہیں، اس عرصے کے دوران دونوں ممالک کے عوام کی صحت محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے'۔

عہدیدار نے بتایا کہ ’بابِ دوستی کے ایک ہفتے تک بند رہنے کی وجہ سے چمن میں پاک افغان سرحد پر کوئی سرگرمیاں نہیں ہوں گی‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران افغانستان میں تعینات امریکا اور نیٹو فورسز کے لیے سامان کی فراہمی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی معطل رہے گی۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا 13 مارچ تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

اس سلسلے میں امیگریشن آفس بھی بند رہے گا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو کے سامان سے لدے ٹرکس جو چمن پہنچ چکے ہیں، انہیں کسٹم ہاؤس یارڈ کے محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔

خیال رہے یومیہ دونوں اطراف سے تقریباً 7 سے 8 ہزار افراد تجارت، کاروباری سرگرمیوں کے لیے چمن اور افغان سرحدی علاقے ویش میں قائم سرحدی مقام سے گزرتے ہیں۔

دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ صحت نے چمن میں مشتبہ مریضوں کو رکھنے کے لیے آئیسولیشن وارڈز قائم کردیے تھے تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسکریننگ میں افغانستان سے آنے والا کوئی شخص بھی وائرس سے متاثرہ محسوس نہیں ہوا۔

پاک ایران سرحد 3 روز کیلئے بحال

قبل ازیں پاکستان نے ایران کے کئی شہروں میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے سبب 23 فروری کو تفتان بارڈر بند کردیا تھا۔

تاہم دونوں ممالک کی مقامی اتنظامیہ نے 3 دن کے لیے سرحدی گیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تاکہ دونوں ممالک میں پھنسے ہوئے افراد اپنے اپنے ملک لوٹ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا صحت یابی کے بعد بھی لوگ کورونا وائرس آگے پھیلا سکتے ہیں؟

جس کے بعد اتوار کے روز پاکستان ایران سرحد سے ایک ہزار 34 زائرین سمیت ایک ہزار 300 پاکستانی اسکریننگ کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ 8 ایرانی شہری اپنے وطن گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سرحد پر تعینات محکمہ صحت کی ٹیمز ایران سے واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی اسکریننگ کررہی ہیں اور زائرین کو قرنطینہ میں رکھا گیا جبکہ باقی افراد کو ان کے گھر واپس جانے دیا گیا۔

پاکستانیوں کا احتجاج

دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان میں پاکستان ہاؤس میں قائم قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین نے باہر نکل کا احتجاج کیا۔

احتجاج کے لیے 2300 زائرین قرنطینہ سے نکل کر تفتان کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدیدی نعرے بازی کی۔

زائرین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں قرنطینہ سے نکال کر گھروں کو بھیجا جائے، ہمیں ماسک، کمبل اور علاج کی کوئی ضرورت نہیں، گھر جانا چاہتے ہیں۔

جس کے بعد ضلعی انتظامیہ، فرنٹیر کور (ایف سی) اور پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے مظاہرہن سے مذاکرات کیے گئے۔

خیال رہے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور پاکستان میں اب تک 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

وائرس سے اب تک عالمی سطح پر 88 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 60 ممالک تک یہ وائرس پھیل چکا ہے۔