ہاؤسنگ اسکینڈل کیس: اسلام آبادہائیکورٹ نے نیب سے رپورٹ طلب کرلی

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ —فائل فوٹو: ڈان نیوز
اسلام آباد ہائی کورٹ —فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ’ججوں کو بدنام‘ کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) سے وضاحت طلب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور سابق ہاؤسنگ وزیر اکرم خان درانی کی ضمانت خارج کرنے سے متعلق نیب کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ درخواست سے ایک روز قبل ہی نیب نے اکرم خان درانی کے خلاف گزشتہ برس جاری کیے جانے والے وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے تھے۔

مزیدپڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نیب پر ججز کو بلیک میل کرنے کا الزام

تاہم اس سے قبل سابق ہاؤسنگ وزیر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل ازین گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی تھی۔

جس پر جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ضمانت دوبارہ سماعت شروع کی تو نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب خان بھروانہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اکرم خان درانی کے خلاف وارنٹ گرفتاری واپس لینے کے بعد اس درخواست کا فائدہ نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے مذکورہ معاملے کو نمٹانے کی درخواست کی۔

خیال رہے کہ 17 مارچ کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریماکس دیے تھے کہ نیب نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں عدالت عالیہ کے کچھ ججوں کے ساتھ دیگر جوڈیشل افسران کے خلاف الزامات لگاتے ہوئے ججوں کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی نیب کی درخواست پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی ریماکس دیے تھے کہ ججوں کو بلیک میل کرنے کی غرض سے یہ کسی تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیب حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ

بینچ نے نیب سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی رضامندی سے رپورٹ تیار کی گئی ہے تو وہ عدالت کو آگاہ کریں۔

مذکورہ معاملے پر ہونے والی حالیہ سماعت پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب خان بھروانہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس معاملے میں تفتیشی افسر کو تبدیل کردیا گیا ہے اور تفتیش کسی دوسرے افسر کو سونپی گئی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے گئے ہیں اور لہٰذا معاملے کو نمٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ چونکہ ججوں کے نام نیب کی رپورٹ میں شامل کردیے گئے ہیں لہٰذا بینچ اس کیس کی تفصیلات پر غور کرے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم نے کوئی غلط کام کیا ہے اور ہمیں قواعد کے خلاف گھر الاٹ ہوئے ہیں تو ہم بھی جوابدہ ہیں۔

واضح رہے کہ 2015 میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے مبینہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی افسران اور عملے کو سرکاری رہائش گاہوں کیلئے آؤ آف ٹرن الاٹ کی تھی، تاہم الاٹمنٹ ہائیکورٹ کے ججز (لیو، پینشن اور پریولیج) آرڈر کے مطابق تھی۔

مزیدپڑھیں: 'عوام کے اعتماد کے لیے ججز کا احتساب بھی ضروری ہے'

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی درخواست ضمانت خارج کرنے کی نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بینچ نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ وہ تفتیشی افسر کی رپورٹ پیش کریں اور اس کیس کی سماعت 12 مئی تک ملتوی کردی۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر راجا انعام آمین منہاس نے کہا کہ نیب نے عدلیہ کی ساکھ خراب کرنے کے لیے من گھڑت رپورٹ تیار کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس من گھڑت رپورٹ کے پیچھے نیب کے چیئرمین کے ساتھ دیگر عہدیداروں کا عمل بدانتظامی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے وکلا عدلیہ کو نشانہ بنانے کے اس فعل پر ناراض ہیں اور ایک مناسب فورم کے سامنے نیب کے چیئرمین کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


یہ خبر 9 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی