کووڈ 19 کے شکار افراد کس وقت اس وائرس کو آگے منتقل کرتے ہیں؟

09 اپريل 2020

ای میل

چین میں ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس میں اس کا جواب دیا گیا —  اے ایف پی فوٹو
چین میں ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس میں اس کا جواب دیا گیا — اے ایف پی فوٹو

ایسے افراد جو نئے نوول کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان میں علامات طاہر ہونے کے بعد کووڈ 19 صحت مند افراد میں منتقلی کا امکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں یہ نیا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا، جسے عالمی ادارہ صحت نے جنوری میں گلوبل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا اور جب سے ہی اس کے بارے میں جاننے کے لیے سائنسدان مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔

نوول کورونا وائرس کے بارے میں جاننے کا بنیادی مقصد اس کی روک تھام کی موثر حکمت عملیوں کو ترتیب دینے میں مدد ہے۔

اب 2 تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وائرل آر این اے لیول مریضوں میں اس وقت سب سے زیادہ زیادہ ہوتا ہے جب ان میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی، شینزن ہاسپٹل کی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے 23 مریضوں کے تھوک کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر ان افراد میں وائرس کا اجتماع بیماری کے احساس کے فوری بعد عروج پر پہنچ گیا اور ایک ہفتے بعد اس میں کمی آنے لگی۔

مریض کے جسم میں جتنا زیادہ وائرل آر این اے موجود ہوتا ہے، اتنا ہی ہی وہ انہیں کھانسی یا چھینک کے ذریعے خارج کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ وائرس کے ذرات کے بہت زیادہ مقدار میں ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرض بہت آسانی سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے، چاہے علامات بہت زیادہ نمایاں نہ ہو۔

ان نتائج کو تقویت ایک اور تحقیق سے بھی ملتی ہے جس میں ناک اور حلق کے مواد کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق میں 18 مریضوں میں وائرل آر این اے کے نمونے جمع کیے گئے، جن میں سے 17 میں علامات ظاہر ہوئی تھیں جبکہ ایک میں علامات نظر نہیں آئی تھیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ معتدل علامات والے مریضوں میں بھی بغیر علامات الے مریض جتنا ہی وائرل آر این اے موجود ہوتا ہے، تاہم معتدل علامات والے افراد میں یہ مقدار شدید علامات والے افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

چین کے ہاسپٹل آف نان چنگ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ وائرل آر این اے کے اجتماع سے پیششگوئی کی جاسکتی ہے کہ متاثرہ فرد میں علامات کی شدت بڑھے گی یا نہیں۔

ان دونوں تحقیقی رپورٹس کے نتائج جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل مارچ کے وسط میں جرمن یونیورسٹیوں کی تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے اور عندیہ ملا تھا کہ آخر یہ وائرس بہت آسانی سے کیوں پھیل رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر افراد اس وقت اسے آگے منتقل کردیتے ہیں، جب علامات معمولی اور نزلہ زکام ہوتی ہیں۔

محققین نے اس کو آن لائن شائع کیا جس میں دیکھا گیا تھا کہ یہ وائرس مختلف مراحل میں کس طرح اور کن ذرائع سے پھیلتا ہے۔

محققین نے کووڈ 19 کے شکار 9 افراد کے متعدد نمونوں کا تجزیہ کیا جن کا علاج میونخ کے ایک ہسپتال میں ہورہا تھا اور ان سب میں اس کی شدت معتدل تھی۔

یہ سب مریض جوان یا درمیانی عمر کے تھے اور کسی اور مرض کے شکار نہیں تھے۔

محققین نے ان کے تھوک ، خون، پیشاب، بلغم اور فضلے کے نمونے انفیکشن کے مختلف مراحل میں اکٹھے کیے اور پھر ان کا تجزیہ کیا۔

مریضوں کے حلق سے لیے گئے نمونوں سے انکشاف ہوا کہ یہ وائرس جب کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، جبکہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں وائرس کے کسی قسم کے آثار دریافت نہیں ہوئے تاہم فضلے میں وائرل این اے موجود تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ سارز وائرس سے بالکل مختلف ہے، جس میں وائرس کی منتقلی کا عمل 7 سے 10 دن میں عروج پر ہوتا ہے مگر نیا نوول کورونا وائرس میں یہ عمل 5 دن سے پہلے ہی تیز ہوجاتا ہے اور سارز کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جن افراد میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے، ان میں وائرس کے متعدی ہونے کا عمل 10 یا 11 ویں دن تک عروج پر پہنچتا ہے جبکہ معتدل مریضوں میں 5 دن کے بعد اس عمل کی شدت میں بتدریج کمی آنے لگتی ہے اور 10 ویں دن ممکنہ طور پر یہ مریض اسے مزید پھیلا نہیں پاتے۔

مگر محققین کے مطابق فضلے میں وائرس آر این اے کی موجودگی سے وہ وائرل کلچر بنانے میں ناکام رہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ممکنہ طور انفیکشن پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔