ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا کی راہ میں مزاحم جینیاتی تبدیلیاں دریافت کرلیں

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

تحقیقی ٹیم میں ڈاکٹرنصرت جبیں، فوزیہ رضا، ثانیہ شبیر، عائشہ اشرف بیگ، انوشہ امان اللہ اور بسمہ عزیز شامل تھے—تصویر: امتیاز علی
تحقیقی ٹیم میں ڈاکٹرنصرت جبیں، فوزیہ رضا، ثانیہ شبیر، عائشہ اشرف بیگ، انوشہ امان اللہ اور بسمہ عزیز شامل تھے—تصویر: امتیاز علی

کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) کے ماہرین نے انسانی جین میں قدرتی طور پر پائی جانے والی دو ایسی تبدیلیوں کا پتہ لگا لیا ہے جو نوول کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہیں اور جن انسانوں کی جین میں یہ تبدیلیاں پائی جاتی ہیں کورونا وائرس ان کے جسم میں جاکر غیر مؤثر ہوسکتا ہے۔

مذکورہ تحقیق وائرولوجی کے بین الاقوامی جریدے جرنل آف میڈیکل وائرولوجی میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ حالیہ ریسرچ کے نتیجے میں عالمی وبا کورونا وائرس کے لیے طبی وسائل کے تعین میں مدد ملے گی۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اسکریننگ کے دوران لیے گئے ٹیسٹ نمونوں سے ہی مذکورہ جییناتی تغیرات کی موجودگی کا بھی علم ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی وبا کے 100 دن، ہم کیا کچھ جان چکے ہیں؟

ماہرین کا کہنا تھا کہ ان دونوں یا کسی ایک تبدیلی کی موجودگی سے کورونا وائرس کی علامات میں شدت آنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔

اس طرح کورونا سے متاثرہ شخص کو محض گھر کے ایک کمرے میں قرنطینہ کی ضرورت ہوگی جبکہ دوسری صورت میں کورونا سے متاثرہ شخص کو ادویات کے ساتھ ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔

ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے وائس پرنسپل ڈاکٹر مشتاق حسین کی سربراہی میں کام کرنے والی طلبہ اور اساتذہ کی ٹیم نے ایک ہزار انسانی جینوم کی ڈیٹا مائننگ کرکے معلوم کیا کہ اے سی ای ٹو (اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم 2) نامی جین میں ہونے والے دو تغیرات ایس انیس پی اور ای تھری ٹو نائن جی کورونا کی راہ میں مزاحمت کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا کا سبب بننے والا سارس کووِڈ 19 انفیکشن کے ابتدائی مرحلے میں اے سی ای 2 (اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم 2) سے ہی جا کر جڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: کووڈ 19 کے شکار افراد کس وقت اس وائرس کو آگے منتقل کرتے ہیں؟

محققین نے ایکس ٹینسو اسٹرکچرل اور ڈاکنگ تکنیک کے ذریعے پیش گوئی کی کہ اے سی ای 2 میں قدرتی طور پر مذکورہ دو تغیرات کی موجودگی نوول کورونا وائرس کی راہ میں مزاحمت کرسکتی ہے۔

اس تحقیق سے اس کی تشخیص اور علاج کے امکان کی راہ تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ طبی وسائل کا بہتر تعین کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق حسین نے بتایاکہ ڈیٹا مائننگ میں جن انسانی جینوم کی ڈیٹامائننگ کی گئی ان میں چین، لاطینی امریکا اور بعض یورپی ممالک شامل تھے جو کورونا وائرس سے سب سے بری طرح متاثر ہوئے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تجزیے میں اے سی ای 2 میں مذکورہ تغیرات کی شرح نہایت کم پائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: روس سمیت متعدد ممالک کی کورونا وائرس کے خلاف تجرباتی دوا کی آزمائش

ڈاؤ یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم میں ڈاکٹر نصرت جبیں، فوزیہ رضا، ثانیہ شبیر، عائشہ اشرف بیگ، انوشہ امان اللہ اور بسمہ عزیز شامل تھے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے ریسرچ ٹیم کےسربراہ اور اراکین سے ملاقات کرکے ان کی کاوشوں کو سراہا اور بروقت ریسرچ اور اس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں کووِڈ 19 کے متعلق مختلف پہلووں سے ریسرچ ہورہی ہے اور ان کے مثبت نتائج بھی حاصل ہورہے ہیں توقع ہے کہ اس عالمی وبا سے انسانوں کو بچانے کی یہ کوششیں کامیابی سے ہم کنار ہوں گی۔