کلیئر قرار دیے گئے 453 زائرین میں کورونا کی تشخیص

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

ملتان کے زائرین نے پہلے تفتان میں بھی 15 دن گزارے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملتان کے زائرین نے پہلے تفتان میں بھی 15 دن گزارے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

ملتان: ہفتے کو کلیئر قرار دے کر اپنے اپنے اضلاع میں بھیجے گئے 1160 زائرین میں سے 453 افراد میں اپنے اضلاع میں پہنچنے کے بعد کورونا کی تشخیص کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تفتان سے گزشتہ ماہ 20 مارچ کو کلیئر قرار دے کر بھجوائے گئے زائرین کا جب ضلعی انتطامیہ نے تھرمل اسکریننگ کے ذریعے معائنہ کیا اور جن میں علامات پائی گئیں انہیں دوسرے افراد سے الگ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین کو وطن واپس لانے کی درخواست مسترد

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ صحت کو درخواست کی تھی کہ انہیں ٹیسٹ کٹس مہیا کی جائیں تاکہ زائرین کا ٹیسٹ کرکے وبا سے متاثرہ افراد کو دوسرے لوگوں سے الگ کیا جا سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ بالآخر صوبائی حکومت کو بار بار درخواستیں کرنے کے بعد تمام زائرین کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1160 زائرین کے ٹیسٹ منفی آئے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے متعدد اجلاسوں کے دوران اپنے اعلیٰ عہدیداروں اور سیکریٹری صحت کو کہا کہ تمام زائرین کو اپنے آبائی اضلاع مین بھجوائے جانے سے قبل ان کے ٹیست کیے جائیں مگر اعلیٰ افسران نے ضلعی انتظامیہ کو صرف 5 فیصد زائرین کے ٹیسٹ کرنے کے لیے کہا جس میں سے بھی 3 فیصد زائرین میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام زائرین کو اپنے آبائی اضلاع میں بھجوائے جانے کے انتظامات کیے اور 4 اپریل کو انہیں بھجوانے کے لیے بسوں کا بھی اہتمام کیا۔

تاہم ضلعی انتظامیہ نے عملے کو ہدایات کیں کہ بس کی سیٹ پر بٹھائے جانے والے ہر شخص کا پہلے ٹیسٹ کیا جائے، اس کے بعد ہی انہیں آبائی علاقوں کی جانب روانہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے زائرین کی واپسی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ذرائع نے بتایا کہ جب زائرین کو بتایا گیا کہ ان کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ہی انہیں ان کے آبائی اضلاع میں بھیجا جائے گا تو زائرین نے احتجاج شروع کردیا اور عملے کو بھی قرنطینہ سینٹر سے بے دخل کردیا اور ساتھ ہی انہوں نے قرنطینہ سینٹرز کے دروازے بند کردیے اور کسی کو اندر آنے کی اجازت تک نہ دی۔

ذرائع کے مطابق قرنطینہ سینٹر کے باہر تعینات پولیس نے بھی ضلعی عہدیداروں کے ساتھ تعاون کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انتظامیہ کو فوج طلب کرنی پڑی، جنہوں نے زائرین سے مذاکرات کیے جو اس بات پر بضد تھے کہ انہیں اپنے علاقوں میں جانے دیا جائے، کیوں کہ ان کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں اور انہوں نے ترتیب وار تفتان کے بعد ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں بھی 15 دن گزارے ہیں۔

ان کے مطابق فوج اور زائرین کے درمیان مذاکرات میں یہ طے پایا کہ ان کے ٹیسٹ سیمپل لے کر انہیں اپنے اپنے آبائی علاقوں میں بھیج دیا جائے گا اور وعدے کے مطابق ان کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیے گئے جب کہ انہیں اپنے علاقوں میں بھیج دیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ اضلاع کی حکومتوں کو تاکید کی تھی کہ بھجوائے جانے والے زائرین کے لیے قرنطینہ کا انتظام کیا جائے جب تک کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج نہیں آتے۔

صوبائی حکومت کی ہدایات کے بعد اب تمام ضلعی حکومتیں پریشان ہیں، کیوں کہ ان کے پاس مریضوں کے لیے قرنطینہ کے مناسب انتظامات نہیں ہیں جب کہ حکام کو خدشہ ہے کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ جن زائرین کے ٹیسٹ پہلے منفی آئے تھے، اب دوران سفر وہ بھی کورونا سے متاثر ہو چکے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ایران میں پھنسے زائرین کو واپس لانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ذرائع کا کہنا تھا کہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے تجویز دی تھی کہ پولیس کی بھاری نفری کو قرنطینہ میں تعینات کیا جائے تاکہ زائرین ایک دوسرے سے مل نہ سکیں مگر پولیس نے مبینہ طور پر انتطامیہ کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اب قرنطینہ میں موجود افراد کے ایک دوسرے میں گھل مل جانے سے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے عہدیدار بھی قرنطینہ سینٹر میں ذمہ داریاں نبھانے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے پاس شہری رضاکاروں اور غیر تربیت یافتہ عملے کو تعینات کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے قرنطینہ سینٹر میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تعیناتی کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

جب ذرائع کی جانب سے بتائے گئے دعوؤں کے بعد سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) محمد زبیر دریشک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا، جب کہ متعدد کوششوں کے بعد جب نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائیس چانسلر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہسپتال صرف کورونا کے ٹیسٹ دیکھ رہا ہے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا کا کہنا تھا کہ قرنطینہ سینٹرز کی دیکھ بھال کا کام پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا ہے اور یونیورسٹی صرف ٹیسٹ کر رہی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہسپتال نے قرنطینہ سینٹرز میں عملے کی تعیناتی سے انکار نہیں کیا۔

ادھر ڈی سی نے کہا کہ جب تک متعلقہ اضلاع زائرین کے حوالےسے مناسب انتظامات نہیں کرتے انہیں اپنے آبائی اضلاع میں نہیں بھیجا جائے گا۔


یہ رپورٹ 9 اپریل کو ڈان میں شائع ہوئی