سندھ حکومت کا بجلی، گیس صارفین، کرایہ داروں کے ریلیف کیلئے مسودہ تیار

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو: ڈان نیوز

سندھ حکومت نے صوبے میں کورونا وائرس کی وجہ سے جنم لینے والی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک آرڈیننس تیار کیا ہے جس کے مسودے کے تحت بجلی و گیس صارفین کے وہ صارفین جن کا استعمال کم ہے انہیں بلوں کی ادائیگی نہیں کرنا ہوگی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے 'سندھ کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020' کا مسودہ تیار کیا گیا ہے جسے منظوری کے لیے محکمہ قانون گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کو ارسال کرے گا۔

اگرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا لہٰذا آئین کے آرٹیکل 128 (1) کے تحت گورنر سندھ اس آرڈیننس کا نفاذ کریں گے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں ایک شخص سے گھر کے 7 افراد کورونا وائرس کا شکار

مسودے میں کہا گیا کہ سندھ کورونا وائرس ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس یکم اپریل سے پورے سندھ میں نافذ العمل ہوگا جبکہ اس میں کورونا وائرس سے متاثرہ طبقات کو سماجی، معاشی اور کاروباری ریلیف دیا جائے گا۔

مذکورہ مسودے کے مطابق پانی، بجلی اور گیس فراہم کرنے والے ادارے رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کے پابند ہوں گے جبکہ سندھ کی حدود میں کام کرنے والے تمام یوٹیلیٹی سروسز کے اداروں پر آرڈیننس کا اطلاق ہوگا۔

اس مسودے کے مطابق ایک سے 260 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بل معاف کردیے جائیں گے جبکہ 260 سے 350 یونٹ والے صارفین کو 25 فیصد بل ادا کرنا ہوگا۔

مسودے میں لکھا گیا کہ 351 سے 450 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 50 فیصد بل کی ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ 450 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو پورا بل ادا کرنا ہوگا۔

اسی طرح مسودے کے مطابق ایک سے 155 یونٹ تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کو بل معاف ہوگا جبکہ 200 یونٹ والے صارفین کو 25 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی۔

مذکورہ مسودے کے مطابق 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دی گئی ہے جبکہ اس سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں کو مکمل بل ادا کرنا ہوگا۔

حکومت سندھ کے اس ریلیف آرڈیننس کے مسودے کے مطابق 80 گز تک کے مکانات کو پانی کا بل مکمل معاف کیا جائے گا جبکہ 160 گز تک کے مکان والوں کو 25 فیصد، 240 گز تک والوں کو 50 فیصد بل ادا کرنا ہوگا۔

باقی اس سے بڑے گھر والوں کو مکمل بل کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

اسی طرح 800 اسکوائر فٹ تک کے مکان میں رہنے والوں کے پانی کے بل معاف ہوں گے جبکہ 800 سے 1000 اسکوائر فٹ والوں کو 25 فیصد، 1200 اسکوائر فٹ والوں کو 50 فیصد جبکہ اس سے بڑے فلیٹ والوں کو مکمل بل ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کے الیکٹرک نے 'اوسط بنیاد' پر جاری بل ایک ماہ کیلئے موخر کردیے

ساتھ ہی مسودے کے مطابق مالک مکان کرایہ وصولی کو معطل یا مؤخر کرے گا تاہم بیواؤں اور بزرگ مالک مکان پر اس شق کا اطلاق نہیں ہوگا۔

مزید برآں مسودے کے مطابق 50 ہزار روپے ماہانہ تک کا مکان کا کرایہ ادا کرنے والوں کو کرایہ ادا نہیں کرنا ہوگا جبکہ ایک لاکھ روپے تک کرایہ ادا کرنے والوں کے لیے 50 فیصد رعایت ہوگی تاہم ایک لاکھ سے اوپر کرائے والوں کو مکمل ادائیگی کرنا ہوگی۔

مذکورہ مسودے میں لکھا گیا کہ کوئی تعلیمی ادارہ 80 فیصد سے زائد فیس وصول نہیں کرے گا اور 20 فیصد فیس کٹوتی لازمی ہوگی۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس 20 فیصد کٹوتی کو کسی اور مد یا قسطوں میں وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

علاوہ ازیں مسودے کے مطابق کسی بھی ملازم یا کارکن کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا اور آجر کو ملازم کی تنخواہ ادا کرنا ہوگی۔

مسودے میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس آرڈیننس پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سزا بھی دی جائے گی جبکہ 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔