شہریار آفریدی کو وزیر مملکت برائے انسداد منشیات کا قلمدان واپس مل گیا

اپ ڈیٹ اپريل 10 2020

ای میل

کابینہ ڈویژن نے 8 اپریل کو شہریار آفریدی سے عہدہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا—تصویر: فیس بک
کابینہ ڈویژن نے 8 اپریل کو شہریار آفریدی سے عہدہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا—تصویر: فیس بک

وزیر مملکت برائے سیفران (اسٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجنز) شہریار آفریدی کو وزیر مملکت برائے انسداد منشیات کا اضافی قلمدان واپس دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل کابینہ میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی تھیں اور وزیراعظم عمران خان نے کئی وزرا کے قلمدان تبدیل کردیے تھے، ان تبدیلیوں کو آٹا چینی بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ سے منسلک کیا جارہا تھا۔

ان تبدیلیوں میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی کا قلمدان تبدیل کر کے انہیں وفاقی وزیر برائے انسدادِ منشیات کا عہدہ تفویض کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ میں رد و بدل، خسرو بختیار اور حماد اظہر کے قلمدان تبدیل

ساتھ ہی وزیراعظم نے شہریار آفریدی سے وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات کا اضافی پورٹ فولیو واپس لے لیا تھا جس کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن نے 8 اپریل کو جاری کیا تھا۔

تاہم ایک روز بعد ہی مذکورہ فیصلہ واپس لے لیا گیا اور 9 اپریل کو نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے سیفران کو وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات کا اضافی پورٹ فولیو واپس دے دیا گیا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں وزیر مملکت شہریار آفریدی کو خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے تقرر سے قبل شہریار آفریدی وزیر مملکت برائے داخلہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں تاہم وفاقی وزیر کی تعیناتی کے بعد ان سے یہ عہدہ لے لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں 'منشیات' سے ادویات تیار کی جاتی ہیں، شہریار آفریدی کی ایک مرتبہ پھر وضاحت

قبل ازیں 4 اپریل کو کابینہ میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی تھیں اور وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق مخدوم خسرو بختیار کو قومی تحفظ خوراک کی وزارت سے ہٹا کر انہیں اقتصادی امور کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا تھا۔

ساتھ ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام کو قومی تحفظ خوراک کا عہدہ جبکہ حماد اظہر کو وزیر اقتصادی امور کی جگہ وزیر صنعت کا قلمدان دے دیا گیا تھا۔

کابینہ میں رد و بدل کے نتیجے میں اعظم سواتی کی وزارت بھی تبدیل ہوگئی تھی اور وہ وزیر پارلیمانی امور کی بجائے وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔