پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کس طرح اسپین کے ڈاکٹروں کی مدد کررہے ہیں؟

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2020

ای میل

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے مفت سروس فراہم کرنا شروع کردی—فوٹو: الجزیرہ
پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے مفت سروس فراہم کرنا شروع کردی—فوٹو: الجزیرہ

کورونا وائرس سے متاثرہ بڑے ممالک میں شمار ہونے والے یورپی ملک اسپین میں وبا سے نمٹنے کے دوران وہاں کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو پاکستانی ڈرائیورز مدد فراہم کر رہے ہیں۔

جی ہاں، اسپین میں روزگار کے سلسلے میں رہنے والے تقریبا 150 ٹیکسی ڈرائیورز وبا کے دنوں میں اسپین کی مدد کرکے ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا میں موجود پاکستانی ڈرائیورز نہ صرف ڈاکٹرز بلکہ طبی عملے اور ہسپتال انتظامیہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بارسلونا میں موجود پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے وبا کے دنوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے سمیت ہسپتالوں کو ادویات کی فراہمی کی مفت سروس شروع کر رکھی ہے۔

رپورٹ میں ایک ڈرائیور نے بتایا کہ ان سمیت درجنوں پاکستانی ڈرائیورز مشکل کی اس گھڑی میں اپنے میزبان ملک کے طبی عملے کا ساتھ دے رہے ہیں، جس پر انہیں فخر ہے،

پاکستانی ڈرائیور کا کہنا تھا کہ نہ صرف کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں بلکہ اس سے قبل بھی ایسے ہی مشکل حالات مین پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے انتظامیہ کا ساتھ دیا ہے۔

رپورٹ میں ایک اسپینش ڈاکٹر نے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کی جانب سے مفت فراہم کی جانے والی سروس پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سروس سے طبی عملے کو بہت سہولت میسر ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جہاں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز بارسلونا میں طبی عملے کو مفت پک اینڈ ڈراپ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، وہیں وہ ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی سمیت وہاں کی پولیس کے ساتھ مل کر طبی عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اسپین میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کی جانب سے وہاں کے طبی عملے کے لیے مفت سروس فراہم کرنے کی رپورٹ کو اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کی خدمات پر انہیں سلام پیش کیا۔

اسی حوالے سے عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بارسلونا میں موجود پاکستانی ڈرائیورز نہ صرف طبی عملے کو مفت سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ بڑھ چڑھ کر اسپین کی خدمت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارسلونا میں تقریبا 43 ہزار پاکستانی بستے ہیں جب کہ اسپین بھر میں 90 ہزار کے قریب پاکستانی لوگ رہتے ہیں جو مشکل کی اس گھڑی میں اسپین کی انتظامیہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسپین کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے 12 اپریل کی دوپہر تک دوسرے نمبر پر تھا، وہاں امریکا کے بعد سب سے زیادہ مریض تھے۔

اسپین میں 12 اپریل کی دوپہر تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 16 ہزار 600 سے زائد تک جا پہنچی تھی۔

کورونا کے مریضوں کے حوالے سے امریکا 5 لاکھ مریضوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہے اور وہاں سب سے زیادہ یعنی 20 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

12 اپریل کی دوپہر تک دنیا بھر میں کورونا سے متاثر افراد کی تعداد بڑھ کر 18 لاکھ کے قریب جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 9 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔