بھارت: کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے بہانے روکی گئی خاتون کا گینگ ریپ

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2020

ای میل

گینگ ریپ کا نشانہ بنائی گئی خاتون چل بسیں—فوٹو: آئی اسٹاک
گینگ ریپ کا نشانہ بنائی گئی خاتون چل بسیں—فوٹو: آئی اسٹاک

بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا کے ایک ہسپتال میں کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے بہانے روکی گئی خاتون کا مسلسل 2 دن تک مبینہ طور پر گینگ ریپ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

گینگ ریپ کے باعث مذکورہ خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گیا پولیس نے خاتون کی ہلاکت کے بعد کارروائی کرتے ہوئے انوگرا نارائن مگدھ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل (اے این ایم ایم سی ایچ) کے پیرا میڈیکل اسٹاف شیو شنکر کو گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کردی۔

اخبار کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزم نے دیگر 2 ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک 25 سالہ خاتون کو ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں مسلسل 2 دن تک ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اسے گھر جانے دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شادی شدہ خاتون کو ان کے شوہر حمل ضائع ہونے کے بعد مذکورہ ہسپتال چیک اپ کے لیے لائے تھے تاہم ہسپتال کے عملے نے خاتون کے شوہر کو بتایا کہ خاتون میں کورونا وائرس کی علامات ہیں، اس لیے انہیں آئیسولیشن میں رکھ کر ٹیسٹ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتال عملے کی جانب سے کورونا کا شک ظاہر کیے جانے کے بعد خاتون کے شوہر چلے گئے مگر ہسپتال کے ایک ڈاکٹر سمیت پیرامیڈیکل کے 2 ارکان نے حمل ضائع ہونے کی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال آنے والی خاتون کو 2 دن تک گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

اسی رپورٹ کے حوالے سے بھارتی اخبار دکن کیرونیکل نے بتایا کہ مذکورہ خاتون نے گزشتہ ماہ 25 مارچ کو بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئی تھیں، جہاں ان کا 2 ماہ کا حمل ضائع ہوگیا اور انہیں مسلسل خون آنا شروع ہوا۔

رپورٹ کے مطابق خون نہ رکنے کی وجہ سے خاتون اپنے شوہر کے گھر ریاست بہار آئیں تو شوہر انہیں چیک اپ کے لیے ہسپتال لے گئے، جہاں کے عملے نے خاتون پر کورونا کا شک ظاہر کرکے انہیں آئیسولیشن میں رکھا، جہاں انہیں 2 دن تک گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یکم اپریل تک خاتون کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج بھی آگئے جو منفی تھے، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے خاتون کو گھر جانے کی اجازت دی مگر خاتون جیسے ہی گھر پہنچیں تو ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی اور ان کے خون بہنے میں بھی اضافہ ہوگیا۔

رپورٹ میں خاتون کی ساس اور شوہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے 6 اپریل کو گھر میں ہلاک ہوگئیں اور انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی ساس کو بتایا کہ انہیں ہسپتال کے ڈاکٹر اور طبی عملے نے 2 دن تک گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق خاتون کے ہلاک ہونے کے بعد خاتون کے شوہر کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کے ایک پیرامیڈیکل ملازم کو گرفتار کرکے مزید معاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا جب کہ ہسپتال انتظامیہ سے سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی طلب کرلی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ ہسپتال سے ماضی میں بھی خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنائے جانے کی شکایات آتی رہی ہیں مگر اس باوجود ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مذکورہ ہسپتال خواتین پیرامیڈیکل اسٹاف ہونے کے باوجود خواتین کے وارڈ میں مرد اسٹاف کو تعینات کیے جانے پر بھی تنازعات سامنے آتے رہے ہیں تاہم اس کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ نے کبھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔

دوسری جانب ہسپتال عملے کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بنائی جانے والی خاتون کی ہلاکت کے بعد بھارت کی نیشنل کمیشن آف وویمن (این سی ڈبلیو) بھی نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو معاملے کی تفتیش کرکے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔