بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ کورونا کیا ہے، سماجی فاصلے کیوں ضروری ہیں؟

اپ ڈیٹ 17 اپريل 2020

ای میل

بچوں کو خوفناک انداز میں سمجھانے کے بجائے پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے—فوٹو: اکانامکس ٹائمز
بچوں کو خوفناک انداز میں سمجھانے کے بجائے پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے—فوٹو: اکانامکس ٹائمز

'بابا مجھے باہرجانا ہے، ہر روز آپ کہتے ہیں جائیں گے لیکن نہیں لے کر جاتے،' 8 سالہ حمزہ اپنی شکایت روز درج کرواتا اور بابا روز اسے کہتے کہ آج نہیں پھر کبھی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث گھر پر بند ہوئے 4 ہفتے کو ہونے آئے تھے، باہر جانے، گھومنے پھرنے سے مسلسل انکار کے باعث حمزہ ایک دن جذباتی ہوگیا اور رونے دھونے، چیزیں ادھر سے ادھر پھینکنے سمیت چھوٹی بہنوں پر چلانے لگا۔

زیادہ تر لوگ اس واقعے کا مشاہدہ اپنے گھروں میں کر رہے ہوں گے کہ بچے مسلسل گھر میں رہ رہ کر Panic Attack یعنی بے وجہ بے چینی و گھبراہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔

لیکن درحقیقت یہیں سے ہی والدین کا کردار شروع ہوتا ہے کہ وہ وبا کے حالیہ دنوں میں بچوں کو عارضی سماجی فاصلوں (Social Distancing) کی ضرورت سمجھائیں اور جہاں باہر نکلنا ممکن ہے وہیں بچوں کے لیے سماجی فاصلے اپنانے کی تربیت فراہم کریں۔

سماجی فاصلے کیوں ضروری ہیں؟

ایک حالیہ تحقیق میں کورونا وائرس کے اثرات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کا اثر 6 فٹ سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے, چین میں کورونا مریضوں کے وارڈ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق، وائرس 13 فٹ تک فضا میں سفر کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: لاک ڈاؤن اور تعطیلات کے دوران والدین کیا کریں؟

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کے ذریعے اس وائرس سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے, تحقیق کے مطابق اس وارڈ میں کام کرنے والے عملے کو بہتر حفاظتی اقدامات کی وجہ سے وائرس منتقل نہیں ہوا۔

کلینیکل ماہر نفسیات الیگزنڈر الین کے مطابق بچے کورونا وائرس پھیلاؤ کا اہم سبب ہو سکتے ہیں کیونکہ عموماً ان میں بیماری کے آثار نہیں نظر آتے لیکن یہ جہاں جہاں پر جا رہے ہوتے ہیں وہاں بیماری پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے اس لیے وائرس کا شکار ہونے کے باوجود وہ اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں, تاہم جہاں جہاں یہ چھینکیں یا کھانسیں گے، وہاں موجود کمزور قوت مدافعت کے حامل بچے یا بزرگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سماجی فاصلوں کو کیسے سمجھایا جائے اور انہیں کیسے بنایا جائے؟

نسبتاً چھوٹے بچوں کو سماجی فاصلے کی اہمیت بتانا مشکل لگتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو سماجی فاصلے سکھانے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اقدامات لیں کہ وہ خود بخود احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

گھر کو سب سے بہترین جگہ بنائیں

یاد رکھیں کہ بچے گھر سے باہر جانے کے لیے عموماً مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے ضد کرتے ہیں ۔

بوریت، کھیل کود، پارک یا تفریحی جگہ پر گھومنا اور اپنے دوستوں سے ملنا وغیرہ، اس لیے اپنے گھر کو اتنی بہترین جگہ بنانے کی کوشش کریں کہ عارضی طور پر وہ باہر جانے کا نہ سوچیں اور سماجی فاصلے اپنانے پر مجبور ہو جائیں۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر کو ایسا ایک دم کیسے بنائیں، تو اس حوالے سے چند درج ذیل حکمت عملیاں اپنائی جا سکتی ہیں۔

1۔ بوریت : گھر میں بند رہنے و روٹین سے بیزاریت اور طبعیت بوجھل ہو جانا فطری بات ہے، اس لیے گھر کی روٹین کو بہت سخت نہ بنائیں، زیادہ شدت سے بوریت ہو تو عمدہ پیغام والی کارٹون موویز ساتھ مل کردیکھیں، گھر میں صحن یا کھلا ایریا ہو تو کیمپنگ کریں، رات کو صاف آسمان پر چمکتے تاروں کو دیکھیں اور بچوں کو ان کی کہانیاں سنائیں۔

2 ۔ کھیل کود : ورزش کی عادت کو جاری رکھیں، انڈور گیمز جیسے لڈو، شطرنج،کیرم کھیلیں، مختلف عمر کے بچوں کے لیے کچھ دوسرےکھیل بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔

بالکل چھوٹے بچوں کے لیے : چہرے کے تاثرات اور آواز کی نقالی کریں، نظمیں سنیں اور گائیں، بلاکس یا لکڑی کے ٹکڑوں کو جوڑیں اور پھیلائیں، تصاویر دکھائیں اور آڈیو یا ویڈیو کہانیاں اور کتابیں سنائیں۔

درمیانی عمر کے بچوں کے لیے : کتابیں سنائیں یا تصاویر دکھائیں، پینسل یا کرئیون کے رنگوں سے ڈرائنگ کروائیں، نظموں پر ٹیبلو کروائیں، مل کر گھر کے کام کریں جیسے صفائی کرنا یا کھانا بنانا، اکیڈمک کاموں میں رہنمائی دیں۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن والدین کے لیے ہوم اسکولنگ منصوبہ بندی کا اہم موقع

ٹین ایجرز کے لیے : ان کے پسند کے مضوعات کا پوچھیں اور بات کریں، مل کر ان کی پسند کا کھانا بنائیں، مل کر ورزش کرنے کی ترغیب دیں۔

بڑی عمر کے بچوں کے لیے : تھوڑی بڑی عمر کے بچوں کے لیے اپنے دوستوں کو فون کرنے، ویڈیو کالنگ یا واٹس ایپ پیغامات کے تبادلے کی اجازت دیں، اس کے لیے کچھ اوقات مقرر کر دیں، یوں بچے اپنے آپ کو دوستوں یا ساتھیوں سے جڑا ہوا محسوس کریں گے ۔

انعام سے ترغیب دیں

جب محسوس ہو کہ بچوں کی طبعیت باہر نکلنے کے لیے بے قابو ہورہی ہے تو بچوں کو ان کی دلچسپی اور عمر کے لحاظ سے باہر نہ جانے پر انعام کی ترغیب دینا مفید ثابت ہوگا۔

کون سا بچہ نہیں چاہے گا کہ اسے نئے نئے کھلونے، ٹافیاں، مزے مزے کی چاکلیٹس، دلچسپ گیمز یا پسندیدہ کپڑے نہ ملیں، یہ انعام کہیں (لاک ڈاؤن کے بعد) کسی من پسند جگہ جیسے ایڈونچر پارک یا پلے لینڈ جانے کی صورت بھی ہو سکتا ہے یا دوستوں کی پارٹی کرنے کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔

آپ اپنے بچے کو بہتر جانتے ہیں (اگر نہیں جانتے تو یہی صحیح وقت ہے اسے جاننے کا) کہ کس انعام کی ترغیب اسے سماجی فاصلے برقرار رکھنے پر بخوشی راضی کردے گی۔

نتائج سے تشویش پیدا کریں

کچھ بڑی عمر کے بچے ترغیب سے پوری طرح راضی نہ ہوں تو سماجی فاصلے نہ رکھنے کے نتائج بذریعہ تصاویر دکھائیں کہ جن لوگوں نے یہ فاصلے نہیں رکھے یا بغیر کسی احتیاطی قدم کے باہر جانے پر اصرار کیا ان کی طبعیت کیسے خراب ہوئی اور انہیں بہت عرصہ سب سے کٹ کر رہنا پڑا۔

یہ احتیاط ضرور کریں کہ شدید بیمار افرادکی تصاویر بچوں کو نہ دکھائی جائیں کہ ان کے ذہنوں میں کسی قسم کا مستقل خوف پیدا ہو جائے، اچھے الفاظ اور نرم لہجے کے ساتھ ان کو بریفنگ دینے سے بچوں میں لازماً تشویش پیدا ہوگی۔

باہر نکلنے کی احتیاط

اگرچہ وبا کے حالیہ دنوں میں گھر سے باہر نہ جانا ہی سب سے اچھا کام ہے تاہم اگر بہت مجبوری کی حالت میں باہر نکلنا پڑ رہا ہے تو درج ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ضرور کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: آمنہ شیخ کا گھروں میں موجود بچوں کی تربیت سے متعلق مشورہ

وقت : ایسے وقت کا انتخاب کریں جب دیگر لوگ آپ کی طے کر دہ جگہ (جیسے آپ کے گھر کے سامنے والی سڑک یا کوئی کھلا ہوا قریبی پارک) پر نہ ہوں یا اتنے کم ہوں کہ ان کے قریب سے نہ گزرنا پڑے ۔

فاصلہ : بچوں کو کم از کم 8 سے 10 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنے کا کہتے رہیں، تاکہ اگر وہ اتنا فاصلہ نہ بھی رکھیں تو وہ 4 سے 6 فٹ کا فاصلہ ضرور رکھیں گے، انہیں ہدایت کریں کہ وہ دیگر بچوں کو دور سے سلام اور بات چیت کریں۔

احتیاطی اقدامات: باہر جانے کے لیے کپڑے الگ سے طے کریں، سرجیکل ماسک کو درست طریقے سے پہنائیں۔

کھیلنے کی چیزوں جیسے گیند، فٹ بال وغیرہ کو نہ لے کر جائیں، ہینڈ سینی ٹائزر جیب میں رکھوائیں اور زیادہ دیر ہونے کی صورت میں بار بار ہاتھ صاف کرنے کا کہتے رہیں، ہاتھ سے چہرہ چھونے سے منع کریں، گھر واپس آکر جوتے باہری دروازے پر ہی رکھوائیں اور ہاتھ کو اچھی طرح صاف کروا کر کپڑے تبدیل کروائیں۔


فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔