جنوبی کوریا نے صرف 20 دن میں کورونا کی وبا کو کیسے کنٹرول کیا؟

18 اپريل 2020
— اے ایف پی فوٹو
— اے ایف پی فوٹو

جنوبی کوریا کو نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کو بہت تیزی سے کنٹرول کرنے پر دنیا بھر میں سراہا گیا۔

جنوبی کوریا چین کے بعد دوسرا ملک تھا جہاں یہ وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تھا مگر بغیر سخت لاک ڈائون کے ہی اس نے بیماری کو پھیلنے سے روک دیا تھا۔

اب جنوبی کوریا کی حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جسے فلیٹننگ دی کرو آف کووڈ 19: دی کورین ایکسپیرنس کا نام دیا گیا ہے، جس میں وہاں گزشتہ 3 ماہ کے دوران کورونا کے ردعمل کا جامع تجزیہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے کامیاب ردعمل کا راز اطلاعات، کمیونیکشن ٹیکنالوجی کا استعمال، بڑے پیمانے پر ٹیسٹ، متاثرہ افراد کے تعلق میں رہنے والے افراد کا سراغ اور وبا کے حوالے معلومات کو لوگوں تک پہنچانے میں چھپا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا 'جنوبی کوریا کی جانب سے کامیابی سے کووڈ 19 کے پھیلائو کو 20 دن میں روک دیا گیا تھا اور وہ بھی سخت ترین اقدامات کے بغیر، جن کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت کو روکا جاتا ہے'۔

اس رپورٹ کے چند نکات درج ذیل ہیں جو دنیا کے تمام ممالک کو اس وبا کی روک تھام میں مدد دے سکتے ہیں۔

ٹیسٹنگ اور اطلاعات کی شیئرنگ کے ساتھ قرنطینہ کی کوشش کو بہتر بنانا

جنوبی کوریا میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا پہلا کیس 20 جنوری کو سامنے آیا تھا اور ایک ماہ بعد مجموعی کیسز کی تعداد 3 تک پہنچی تھی، مگر فروری کے وسط میں ایک ایونٹ سے یہ وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔

اس ایونٹ کے 9 دن بعد کیسز کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا مگر جنوبی کورین حکومت نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر وائرس کی ٹیسٹنگ شروع کی، جس سے حکام کو ممکنہ متاثرہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد ملی، جن کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔

17 مارچ تک 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد جنوبی کورین شہریوں کا ٹیسٹ ہوچکا تھا، جس کے لیے ڈرائیو تھرو اور واک تھرو مراکز سے بھی مدد لی گئی۔

29 فروری سے جنوبی کوریا میں روزانہ کیسز کی تعداد گزشتہ دن کے مقابلے میں کم ہورہی ہے اور اب تک 10 ہزار 600 کیسز کی تصدیق جبکہ 229 ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو شرح کے لحاظ سے کسی بھی ملک کے مقابلے میں کم ہیں۔

چین اور امریکا کے برعکس جنوبی کوریا نے بڑے پیمانے پر لاک ڈائون کا نفاذ نہیں کیا تاہم اسکولوں کو بند اور کچھ شہروں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے رئیل ٹائم میں اندازہ لگالیا تھا کہ ہر علاقے اور شہر میں ممکنہ طور پر کتنے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہوں گے، جبکہ قومی اور مقامی حکومتون کی ویب سائٹس پر کیسز کی ٹریکنگ اور شہریوں کے ٹیسٹوں کے نمبر اپ ڈیٹ کیے گئے۔

اسی طرح لوگوں کو مفت اسمارٹ فون ایپس فراہم کی گئیں جن کے ذریعے لوگوں کو ان کے علاقے میں کیسز بڑھنے پر خبردار کیا جاتا۔

حکومت نے عوام کے ساتھ سماجی دوری کی مشق کی اہمیت بتانے کے لیے بھی ٹیکسٹ پیغامات کا سہارا لیا۔

حکومت کی جانب سے اسمارٹ فون ایپس کے ذریعے ٹیلی میڈیسین کی سہولت بھی فراہم کی گئی، جبکہ کورونا وائرس 119 ایپ میں مریضوں کو ان کی علامات کے تجزیے اور پھر فون پر ڈاکٹر سے رابطے کا موقع دیا گیا، جو کورونا وائرس کی علامات کی اسکریننگ کرکے ابتدائی تشخیص کرتے۔

ایک اور ایپ کی مدد سے صارفین کو فیس ماسک کی اقسام اور دکانوں کی تعداد کے بارے اپ ڈیٹ کیا گیا جہاں سے ماسک خریدے جاسکتے تھے۔

جب کسی صارف میں وائرس کی تشخیص ہوجاتی یا وہ کسی مریض سے رابطے کی وجہ سے مشتبہ سمجھا جاتا، تو حکومت کی جانب سے رضاکارانہ طور پر قرنطینہ ایپس ڈائون لوڈ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی، جن سے لوگوں کو اپنی حالت مانیٹر کرنے میں مدد ملتی اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے رابطہ کرسکتے۔

مریضوں کے رابطے میں رہنے والے افراد کا سراغ بہت اہمیت رکھتا ہے

اس منظم نیٹ ورک سے ہٹ کر جنوبی کوریا کی جانب سے مشتبہ افراد کے سراغ لگانے کے جامع پروگرام پر بھی عملدراآمد کیا گیا۔

جب کسی مریض میں وائرس کی تشخیص ہوجاتی تو حکام انٹرویوز، جی پی ایس فون ٹریکنگ، کریڈٹ کارڈ ریکارڈز اور ویڈیو سرویلنس کے ذریعے متاثرہ فرد کی سفری تاریخ کا سراغ لگاتے۔

جنوبی کورین حکومت کی جانب سے ڈیٹا بھی جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ کس طرح ہر مریض کی تفصیلاات ایک پبلک ویب سائٹ میں دی جاتی تاکہ دیگر جان سکیں کہ ان کے قریب کوئی مریض تو موجود نہیں رہا۔

رپورٹ میں 2 اسمارٹ فون ایپس کا ذکر بھی کیا گیا جو مصدقہ کیسز کی خطے میں نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم کرتیں، جبکہ ایک ایپ ایسی تھی جو لوگوں کو اس وقت خبردار کرتی جب وہ اس مقام سے سو میٹر دور ہوتے جہاں کوئی مصدقہ مریض حال ہی میں جاچکا ہوتا۔

ایک اور ایپ سے ملازمین کے لیے دفتر جانے کے لیے محفوظ راستوں کی نشاندہی کی جاتی جہاں سے کوئی متاثرہ فرد گزرا نہ ہو۔

حکومت کی جانب سے جنوبی کوریا میں آنے والے افراد کی علامات کو مانیٹر کرنے کے لیے بھی ایک ایپ کو استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے طبی مشورے بھی فراہم کیے جاتے۔

جنوبی کوریا حکام نے ان تمام اقدامات کا ذکر رپورٹ میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نظر میں یہ تفصیلات لوگوں کے لیے اہم ہے۔

جمعرات کو جنوبی کورین صدر نے ایک ٹوئٹ میں کورین شہریوں کی سماجی ذمہ داریوں، خود ساختہ قرنطینہ اور سماجی دوری کی مشق کو سراہا۔

تبصرے (0) بند ہیں