پاکستان، افغانستان باہمی روابط کے فریم ورک کو فروغ دینے پر متفق

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2020

ای میل

شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اے پی اے پی پی ایس کا آئندہ اجلاس جلد ہوگا—تصویر: دفتر خارجہ
شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اے پی اے پی پی ایس کا آئندہ اجلاس جلد ہوگا—تصویر: دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان نے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ دوطرفہ روابط کے فریم ورک افغانستان-پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈیریٹی (اے پی اے پی پی ایس) کو دوبارہ تقویت دینے کا فیصلہ کیا ہے جو گزشتہ 10 ماہ سے غیر فعال تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان اس فورم کی تجدید پر اتفاق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے افغان ہم منصب حنیف آتمر کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ہوا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 4 اپریل کو حنیف آتمر کو وزیر خارجہ کا منصب ملنے کے بعد ان دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا تاہم افغان وزیر خارجہ کے تقرر کی تصدیق ابھی پارلیمان سے ہونا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افغانستان جوائنٹ ایکشن پلان مذاکرات جاری رکھنے پر متفق

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حنیف آتمر کو ان کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ ان کی موجودگی میں، پاک افغان دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔

دفتر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اے پی اے پی پی ایس کا آئندہ اجلاس جلد ہوگا۔

دوسری جانب افغان وزیر خارجہ نے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی فریم ورک مثلاً اے پی اے پی پی ایس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک جن کے تعلقات باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے طویل عرصے سے خراب تھے انہوں نے مئی 2018 میں اے پی اے پی پی ایس کے نام سے نیا فریم ورک تشکیل دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان قیام امن وقت کی اہم ضرورت‘

جس کے تحت انسداد دہشت گردی اور پُرتشدد کارروائیوں میں کمی کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینا، امن و مفاہمت، افغان مہاجرین کی واپسی اور مشترکہ اقتصادی ترقی کو فروغ دیے جانے کی توقع تھی۔

خیال رہے کہ اے پی اے پی پی ایس کے 5 ورکنگ گروپس ہیں جن میں سے ایک سیکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون کا ہے۔

اس فورم کا آخری اجلاس جون 2019 میں ہوا تھا جس کے بعد دسمبر 2019 میں افغانستان کو آئندہ اجلاس کی میزبانی کرنا تھی تاہم افغان صدارتی انتخاب کے نتیجے میں نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کے سبب وہ اجلاس منعقد نہ ہوسکا تھا۔

اس سے قبل حنیف آتمر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی کے منصب پر فائز تھے اور اس دوران امن عمل میں شامل رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی پاکستان کو ‘دوطرفہ جامع مذاکرات’ کیلئے دورہ کابل کی دعوت

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے داعش کے کماندڑ عبداللہ اورکزائی المعروف اسلم فاروقی کی حوالگی کےمطالبے کے جواب میں افغان حکومت نے اے پی اے پی پی ایس کی تجدید کی تجویز دی تھی۔

افغان وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کی عدم موجودگی کے باعث مطلوبہ شخص کی حوالگی کی درخواست مسترد کردی تھی لیکن تعاون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈیریٹی کے تحت معلومات کے تبادلے پر زور دیا تھا۔