مقتول ڈینیئل پرل کے والدین کا بھی ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

اپ ڈیٹ 03 مئ 2020

ای میل

ملزمان کے خلاف کیس میں خاطر خواہ ثبوت موجود ہیں، وکیل والدین — فائل فوٹو / ڈان
ملزمان کے خلاف کیس میں خاطر خواہ ثبوت موجود ہیں، وکیل والدین — فائل فوٹو / ڈان

امریکا کے مقتول صحافی ڈینیئل پرل کے والدین نے قتل کیس میں اعلیٰ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور مجرمان کی سزا بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کردی۔

اپنے ویڈیو پیغام میں مقتول صحافی کے والد جوڈا پرل نے کہا کہ 'ہم نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم نہ صرف اپنے بیٹے کے لیے بلکہ پاکستان میں موجود ہمارے تمام عزیز دوستوں کے انصاف کے لیے کھڑے ہیں تاکہ وہ تشدد اور دہشت سے آزاد معاشرے میں زندگی گزار سکیں اور اپنے بچوں کی امن و ہم آہنگی کے ماحول میں پرورش کر سکیں۔'

واضح رہے کہ 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں تھیں جبکہ مرکزی ملزم عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

احمد عمر سعید شیخ کیونکہ پچھلے 18 سالوں سے جیل میں تھے لہٰذا ان کی 7 سال کی سزا پورے وقت سے شمار کیے جانے کے بعد ان کی بھی رہائی متوقع تھی۔

تاہم 3 اپریل کو بڑی پیش رفت سامنے آئی تھی اور محکمہ داخلہ سندھ نے سی آئی اے کے ڈی آئی جی کی درخواست پر چاروں ملزمان کو مزید 90 روز کے لیے دوبارہ حراست میں لینے کا حکم دے دیا تھا۔

یہ صحافی کے قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دوسری درخواست ہے۔

سندھ حکومت نے 22 اپریل کو صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس کی جلد سماعت کیلئے سندھ حکومت کی سپریم کورٹ میں درخواست

28 اپریل کو سندھ حکومت نے اپنی درخواست کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ فیاض شاہ کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ عمر شیخ کے مفرور ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اس کے امریکی صحافی کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔

دوسری جانب کیس میں ڈینیئل پرل کے والدین کی نمائندگی کرنے والے وکیل فیصل صدیقی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف کیس میں خاطر خواہ ثبوت موجود ہیں۔

سینئر وکیل طارق بلال نے کہا کہ سپریم کورٹ دونوں درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کرے گی۔

ڈینیل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے موکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ملزمان کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی ڈینیئل پرل قتل کیس کے فیصلے پر تنقید

وکلا کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11 فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیے دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔