میچ فکسنگ کے الزامات ثابت ہو جائیں تو پھانسی پر لٹکا دیا جائے، باسط علی

اپ ڈیٹ 13 مئ 2020

ای میل

باسط علی نے کہا کہ الزام ثابت ہو جائے تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
باسط علی نے کہا کہ الزام ثابت ہو جائے تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

قومی ٹیم کے سابق کرکٹر باسط علی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق سربراہ عارف عباسی کے میچ فکسنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الزام ثابت ہو جائے تو انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں عارف عباسی نے سلیم ملک کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹر باسط علی پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم نے براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی، سابق چیئرمین پی سی بی

انہوں نے کہا تھا کہ 1994 میں دورہ سری لنکا کے بعد اس وقت کے منیجر انتخاب عالم نے بتایا کہ باسط علی نے فکسنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بکیز کے ساتھ ملوث تھے اور معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے انتخاب عالم کو دورے کی رپورٹ میں مذکورہ واقعے کا ذکر کرنے کو کہا لیکن انتخاب عالم نے اس واقعے کا ذکر نہیں کیا جس میں نے ان پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

باسط علی نے بورڈ کے سابق سربراہ کے اس بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان پر الزام ثابت ہو جائے تو وہ پھانسی پر لٹکنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماضی میں کوئی فکسنگ نہیں کی، عدالت نے مجھے کلیئر قرار دیا، سلیم ملک

سابق بلے باز نے کہا کہ اگر کوئی ثابت کردے کہ انہوں نے فکسنگ کا اعتراف کیا تھا تو انہیں پھانسی پرلٹکا دیا جائے اور دنیا کی کسی بھی عدالت میں اگر کوئی یہ ثابت کرے تو سزا کے لیے تیار ہوں۔

اس موقع پر انہوں نے عارف عباسی کے اس بیان کے خلاف عدالت جانے اور قانونی چارہ جوئی کا بھی اعلان کیا۔

باسط علی نے دعویٰ کیا کہ انتخاب عالم نے انہیں کال کر کے کہا کہ میڈیا میں ان سے جو بیانات منسلک کیے جا رہے ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے الفاظ پر قائم ہوں، تفضل رضوی کو جواب دوں گا، شعیب اختر

البتہ باسط علی کے دعوے کے برعکس انتخاب عالم نے عارف عباسی کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عارف عباسی سے باسط علی کے اعتراف کے حوالے سے بات کی کی تھی لیکن ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں میچ فکسنگ کا پنڈورا باکس ایک مرتبہ پھر کھل گیا ہے جہاں عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ ماضی میں میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سلیم ملک دوبارہ کرکٹ میں واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد کو نیوکاسل کلب خریدنے سے روکا جائے، منگیتر جمال خاشقجی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ماضی میں کوئی فکسنگ نہیں کی جبکہ عدالت نے بھی انہیں بری کردیا ہے اور اگر انصاف نہیں ملا تو وہ وزیر اعظم عمران خان کے پاس بھی جائیں گے۔

یہ تمام تر صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب چند دن قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔