ترک ڈراموں کے خلاف نہیں، انہیں پی ٹی وی پر چلانے کا مخالف ہوں، شان شاہد

اپ ڈیٹ 06 مئ 2020

ای میل

شان شاہد پر تنقید کی جا رہی ہے—اسکرین شاٹ ٹوئٹر
شان شاہد پر تنقید کی جا رہی ہے—اسکرین شاٹ ٹوئٹر

معروف اداکار شان شاہد نے حال ہی میں اپنی ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ جب انہوں نے کئی بیرونی چیزوں کی امپورٹ پر پابندی لگائی ہے تو ڈرامے کو کیوں امپورٹ کر رہے ہیں؟

شان شاہد نے کچھ دن قبل ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ انہیں علم ہے کہ جب حالیہ معاشی بحران میں ہم بیرون ممالک کی چیزیں امپورٹ نہیں کر پا رہے تو پھر ہمارا ریاستی ٹی وی پی ٹی وی کیوں بیرون ممالک کے ڈرامے دکھا رہا ہے؟

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا تھا کہ ہمیں اپنے ٹیلنٹ پر یقین رکھنا چاہیے اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔

شان شاہد نے اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مینشن کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انٹرٹینمینٹ انڈسٹری کو بھی ان کی مدد کی ضرورت ہے۔

شان شاہد کی جانب سے اپنی ٹوئٹ میں دیریلیش ارطغرل کا ذکر نہیں کیا گیا تھا مگر ان کا اشارہ اسی ڈرامے کی جانب تھا، جسے یکم رمضان المبارک سے وزیر اعظم کی فرمائش پر پاکستان ٹیلی وژن پر نشر کیا جا رہا ہے۔

شان شاہد کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے پر متعدد افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں یاد دلایا کہ دیریلیش ارطغرل دراصل اسلامی تاریخ پر مبنی اہم ڈراما ہے۔

لوگوں کی تنقید کے بعد شان شاہد نے ڈان امیجز سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ دراصل وہ ارطغرل کے خلاف نہیں بلکہ اسے ریاستی ٹی وی پر چلانے کے خلاف ہیں۔

شان شاہد کا کہنا تھا کہ ارطغرل سے قبل بھی متعدد ترک ڈرامے نجی ٹی وی چینلز نے اردو میں ترجمہ کرکے چلائے اور انہوں نے بھی کافی شہرت حاصل کی مگر اس بار بیرون ملک کے ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر چلایا گیا۔

شان شاہد نے دلیل دی کہ پی ٹی وی کو عوام کے ٹیکس اور پیسے سے چلایا جاتا ہے اور اس پر بیرون ممالک کا مواد نشر کرنے کے بجائے اپنے ملک کا بنایا ہوا مواد نشر کیا جانا چاہیے۔

دیریلیش ارطغرل کی پہلی قسط نے لوگوں کے دل جیت لیے—اسکرین شاٹ
دیریلیش ارطغرل کی پہلی قسط نے لوگوں کے دل جیت لیے—اسکرین شاٹ

شان کا کہنا تھا کہ کچھ سال قبل عشق ممنوع اور میرا سلطان جیسے ترکش ڈرامے نجی ٹی وی چینلز نے نشر کیے اور انہوں نے شہرت بھی حاصل کی مگر اس بار یہ کام سرکاری ٹی وی پر کیا جارہا ہے اور یہ کہ حکومت بھی اس کام کو سپورٹ کر رہی ہے جس سے پاکستانی فنکاروں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

اداکار کے مطابق اس وقت پوری دنیا کے حالات مشکل سے گزر رہے ہیں اور پوری دنیا کے پیشہ ور لوگوں کو کچھ ہی امیدیں ہیں، ہمارے ملک میں پہلے ہی زر مبادلہ کے ذخائر کم اور مہنگائی و بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے اور ایسے کاموں سے مزید مایوسی ہوتی ہے

یہ بھی پڑھیں: ’دیریلیش ارطغرل‘ کی پہلی قسط نے ہی دھوم مچادی

شان شاہد نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت بہت سارے شعبے حکومت کی مدد کے منتظر ہیں، ایسے شعبے چاہتے ہیں کہ حکومت ان پر ٹیکس کا وزن کم کرکے انہیں مالی معاونت فراہم کرے اور ایسے شعبوں میں شوبز بھی شامل ہے اور یہ شعبہ ٹیکس تو کرتا ہے مگر اس کی مدد نہیں کی جا رہی۔

شان شاہد نے شکوہ کیا کہ حکومت نے کبھی کسی مقامی ڈرامے سے متعلق کوئی ٹوئٹ کیوں نہیں کی اور کسی فلم کے حوالے سے بھی ایسا کیوں نہیں کیا؟ حکومت کا چھوٹا سا بیان بھی ہمت افزا ہو سکتا ہے۔

شان شاہد کا کہنا تھا کہ مقامی ڈراموں اور فلموں سے متعلق ایک ٹوئٹ کرنے کے بجائے حکومت نے بیرون ممالک کے مواد کو عوام کو دکھانے کا انتخاب کر رہی ہے۔

سپر اسٹار اداکار نے کہا کہ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ امپورٹ کم کی جائے اور دوسری طرح خود ہی ثقافتی امپورٹ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ارطغرل کو بھی وزیر اعظم کی خواہش پر پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
ارطغرل کو بھی وزیر اعظم کی خواہش پر پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ

شان شاہد کے بیان سے قبل یہ خبریں بھی تھیں کہ وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ارطغرل کے بعد ترکی کے ایک اور معروف ڈرامے یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کیا جانا چاہیے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کچھ دن قبل کہا تھا کہ عمران خان نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کیا جانا چاہیے۔

’یونس امرے‘ ڈرامے کو ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ون نے بنایا تھا اور اس ڈرامے کا پہلا سیزن 2015 میں جب کہ دوسرا سیزن 2016 میں نشر کیا گیا تھا اور ڈرامے کی مجموعی طور پر 41 اقساط تھیں۔

مزید پڑھیں: ’دیریلیش ارطغرل‘ کے بعد وزیر اعظم ایک اور ڈرامے کو نشر کروانے کے خواہاں

’یونس امرے‘ ڈراما دراصل 13 ویں صدی کے ترک صوفی شاعر یونس امرے کی زندگی پر بنایا گیا ہے، وہ سلطنت عثمانیہ سے 200 سال قبل پیدا ہوئے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ہی پی ٹی وی نے یکم رمضان المبارک سے معروف ترک ڈرامے دیریلیش ارطغرل کو اردو میں نشر کرونا شروع کیا ہے اور مذکورہ ڈرامے کو بہت سراہا جا رہا ہے، یہاں تک خود وزیر اعظم بھی اس ڈرامے کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

خبریں ہیں کہ وزیر اعظم یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کروانے کے خواہاں ہیں—اسکرین شاٹ
خبریں ہیں کہ وزیر اعظم یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کروانے کے خواہاں ہیں—اسکرین شاٹ

ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔