عدالت نے ملا منصور کی جائیدادیں نیلامی کیلئے ضبط کرلیں

اپ ڈیٹ مئ 08 2020

ای میل

ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے کراچی میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کی جائیدادیں خریدی تھیں—فوٹو: ڈان آرکائیوز
ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے کراچی میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کی جائیدادیں خریدی تھیں—فوٹو: ڈان آرکائیوز

کراچی: ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے ا فغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی لگ بھگ 3 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی جائیدادیں نیلامی کے لیے ضبط کرلیں۔

خیال رہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے یہ جائیدادیں خریدی تھیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد، اختر محمد اور عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11 ایچ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

خیال رہے کہ 21 مئی 2016 کو پاک-ایران سرحد پر ڈرون حملے میں مارے جانے والے ملا منصور نے کراچی میں پلاٹس اور گھروں سمیت 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔

مزید پڑھیں: عدالت نے ملا منصور کے اثاثوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی

یہ انکشاف گزشتہ برس جولائی میں افغان طالبان کے رہنما اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے جعلی شناخت کے ذریعے جائیداد کی خریداری سے مبینہ فنڈ اکٹھا کرنے سے متعلق کیس کی تحقیقات میں اے ٹی سی ٹو میں جمع کروائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ میں سامنے آیا تھا۔

جنوری سے عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو یہ ہدایات کی جارہی تھیں کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 87 اور 88 کے تحت ملا منصور اور اس کے 2 مبینہ مفرور ساتھیوں اختر محمد اور عمار کی جائیدادوں کو منسلک کریں یا (ضبط) کریں۔

24 اپریل کو عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ایف آئی اے کی جانب سے شناخت کی گئی جائیدادوں کی نیلامی کا عمل مکمل کرنے کے حکم پر رپورٹ جمع کروانے کے بعد ناظر (عدالتی عہدیدار) کو ملا منصور کی جائیداد قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان جائیدادوں کو نیلام کیا جائے اور اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کروائے جائیں۔

حال ہی میں جب یہ معاملہ اے ٹی سی ٹو کے جج کے سامنے آیا تو عدالتی ناظر نے عدالت کی جانب سے ملا اختر منصور کی جائیداد کو تحویل میں لینے سے متعلق رپورٹ جمع کروائی۔

جس پر جج نے آئندہ سماعت میں نیلامی کا اشہتار شائع ہونے سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

اس کے ساتھ ہی جج نے تفتیشی افسر رحمت اللہ ڈومکی کی جانب سے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیے 11 جون کے لیے مقرر کردیا۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی شناخت پر 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت کا ایف آئی اے کو ملا منصور کی جائیدادیں نیلام کرنے کا حکم

25 جولائی 2019 کو جمع کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ملا عمر کے بعد طالبان سربراہ بننے والے ملا منصور پاک ایران سرحد پر 21 مئی 2016 کو ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

انکوائری کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ملزم ملا اختر منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جائیدادیں خریدی تھیں۔

تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا کہ ملا منصور نے کراچی میں اسکیم 33 کے علاقے گلزار ہجری میں قائم اپارٹمنٹ بسم اللہ ٹیرس میں 14 لاکھ کا فلیٹ خریدا تھا۔

چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ایک اور فلیٹ (بی-6-3) عمار ٹاور، شہید ملت روڈ، کراچی میں 19 جولائی 2011 کو 36 لاکھ 20 ہزار کا فلیٹ، شہید ملت روٖ پر گلستان انیس میرج ہال کے پاس سمایا ریزیڈنسی میں فلیٹ نمبر 801، ایک کروڑ 73 لاکھ روپے کا 15 ستمبر 2014 کو خریدا تھا۔

مزید کہا گیا کہ 441.67 مربع گز کا پلاٹ (بی 65، سیکٹر ڈبلیو، سب سیکٹر III، گلشن معمار ، کے ڈی اے سکیم 45، کراچی) ملا منصور نے یکم دسمبر 2009 کو 54 لاکھ روپے کا خریدا تھا اور یہ پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ ’بیچنے والے ارشاد مظہر اور خریدار گل محمد کے مابین کی گئی فروخت/خریداری کے معاہدے کے مطابق، پلاٹ کی قیمت 54 لاکھ روپے کی اصل قیمت کے بجائے 4 لاکھ 86 ہزار 500 روپے دکھائی گئی‘۔

اس میں ایک مکان (A-56 ، سیکٹر زیڈ ، سب سیکٹر-V ، گلشنِ معمار ، کے ڈی اے سکیم 45 ، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 4.7 ملین میں خریدا تھا، پراپرٹی گل محمد کے نام پر بھی رجسٹرڈ تھی، جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر ملکیت منتقل کردی۔

اس میں ایک مکان (اے-56، سیکٹر زیڈ، سب سیکٹر-5، گلشنِ معمار، کے ڈی اے اسکیم 45، کراچی) بھی درج تھا جسے ملا منصور نے 29 نومبر 2007 کو 47 لاکھ میں خریدا تھا۔

پراپرٹی گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھی جس نے بعد میں ملا منصور کے ایک اور فرنٹ مین اختر محمد کے نام پر منتقل کردی گئی تھی۔