ملائیشیا میں 13 سو سے زائد پناہ گزین گرفتار

اپ ڈیٹ 13 مئ 2020

ای میل

ایک ہفتے قبل بھی اس قسم کی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی
ایک ہفتے قبل بھی اس قسم کی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی —فائل فوٹو: اے ایف پی

کوالالپمور: ملائیشیا نے لاک ڈاؤن والے علاقے سے ایک ہزار 368 غیر قانونی پناہ گزینوں کو حراست میں لے لیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں لاک ڈاون کے نیتجے میں معاشی حالات سے پریشان لوگوں کے روپوش ہونے اور گنجائش سے زائد بھری ہوئی جیلوں میں انفیکشن بڑھنے کے خدشے کے باجود اس قسم کے چھاپے جاری ہیں۔

امیگریشن ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان کے مطابق انڈونیشیا، بھارت، پاکستان، میانمار اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو ملائیشین دارالحکومت کوالالمپور کے باہر ایک بڑی مارکیٹ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشین حکومت کی لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کو دیے گئے مشوروں پر معذرت

اس چھاپے میں 261 خواتین اور 98 بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا جبکہ ایک ہفتے قبل بھی اس قسم کی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی جس نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خبردار کیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ زیر حراست ان پناہ گزینوں کے جرائم میں مکمل شناختی دستاویز نہ ہونا، مدت گزرجانے کے باوجود رہائش اور جعلی دستاویزات رکھنا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ملائیشیا میں کورونا وائرس کے 6 ہزار 742 کیسز اور 109 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں اور رواں ماہ کے اوائل میں نقل و حرکت پر لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا: ٹیٹو شو میں عریانیت پھیلانے کا الزام، تحقیقات کا حکم

تاہم ایسے متعدد علاقوں جہاں کووِڈ 19 کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں وہاں پابندیاں بدستور سخت ہیں۔

اس ضمن میں ایشیا پیسِفک ریفیوجی نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ جنہیں حراست میں لیا گیا اس میں زیادہ تر پناہ کے لیے درخواست دینے والے ہیں اور وہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔


یہ خبر 13 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔