’جج ویڈیو کیس میں ارشد ملک کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟‘

اپ ڈیٹ 15 مئ 2020

ای میل

ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے وضاحت طلب کرلی کہ محفوظ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں پائے گئے احتساب عدالت کے سابق جج کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ویڈیو تنازع کے مرکزی کردار میاں طارق محمود کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

میاں طارق نے ارشد ملک کی ویڈیو اس وقت بنائی تھی جب وہ ملتان کے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج تعینات تھے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں سابق جج ارشد ملک کی ایک خفیہ ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ’اعتراف‘ کیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کو سزا ایک ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیے جانے پر سنائی۔

یہ بھی پڑھیں: جج ویڈیو لیک کیس: ملزم کا جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کا اعتراف

ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں نشہ آور ادویات دے کر پھنسایا گیا۔

بیان حلفی میں ارشد ملک نے کہا تھا کہ ایک تقریب میں ناصر جنجوعہ اور مہر غلام نے شرکت کی تھی جس میں ناصر جنجوعہ نے انہیں ایک کونے میں لے جا کر نواز شریف کی دونوں ریفرنسز سے بریت کے لیے منت سماجت کی تھی۔

بعدازاں ایک مرتبہ پھر ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی نے انہیں 10 کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ 2 کروڑ روپے مالیت کی غیر ملک کرنسی باہر ان کی گاڑی میں رکھی ہے اور یہ پیشکش ریفرنس کا فیصلہ آنے سے پہلے کی گئی تھی۔

بیان حلفی میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم ناصر بٹ نے ان سے ملاقات کی اور ناصر جنجوعہ کی بنائی گئی ویڈیو جاری کرنے کی دھمکی دی لیکن جبکہ ارشد ملک نے ایسی کسی ویڈیو کے حوالے سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا تو ناصر بٹ نے انہیں کہا کہ وہ جلد دکھائیں گے۔

چنانچہ چند روز بعد میاں طارق محمود سابق جج کی رہائش گاہ پر گئے اور انہیں وہ ویڈیو دکھائی۔

مزید پڑھیں: جج ویڈیو لیک کیس: ایف آئی اے کی اپنے ہی افسران کے خلاف کارروائی کی استدعا

جسٹس اطہر من اللہ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ 18 سال بعد سابق جج کو خیال آیا کہ انہیں نشہ آور ادویات دی گئی تھیں کہ غیر اخلاقی حالت میں ان کی ویڈیو بنائی جائے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد ملک نے ویڈیو کو نہ تو ترمیم شدہ کہا اور نہ ہی جعلی قرار دیا اس کے بجائے انہوں کی ویڈیو کےاصلی ہونے کی تصدیق کی اور اس صورت میں ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی کارروائی ہونی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کا اعتراف بذات خود ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کے لیے باعث شرمندگی ہے ساتھ ہی انہوں نے تفتیشی افسر سے ملزم کے جرم کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم پر سال 2001 سے 2003 کے درمیان جج کو بلیک میل کرنے کے لیے ان کی ویڈیو بنانے کا الزام ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا آپ نے جج کا بیان ریکارڈ کیا؟ کیا ان سے پوچھا کہ جس گھر میں ان کی ویڈیو بنائی گئی تھی وہ وہاں کیوں گئے تھے؟

یہ بھی پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں ایف آئی اے کی پرویز رشید سے تفتیش

انہوں نے ایف آئی اے کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 21 مئی تک مکمل تفتیشی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت میں جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ مکمل تفتیشی رپورٹ جمع ہوجانے کے بعد میاں طارق کی درخواست پر مناسب فیصلہ سنایا جائے گا۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایف آئی کی جانب سے جج ویڈیو کیس میں 3 ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کی درخواست مسترد کردی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے سول جج نے گزشتہ برس ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی، خرم شہزاد کو ایف آئی کی جانب سے بے قصور قرار دیے جانے پر رہا کردیا تھا۔

ایف آئی نے انہیں برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت گرفتار کر کے مقدمہ چلایا تھا اور جج ویڈیو کیس کی ایف آئی آر میں جج ارشد ملک کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔


یہ خبر 15 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔