آئل ریفائنریز، کمپنیوں کو ایندھن کی فراہمی میں اضافے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 18 مئ 2020

ای میل

یہ ایڈوائزری کچھ عرصے قبل ملک کے کئی حصوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی میں کمی کے بعد جاری کی گئی ہے —فائل فوٹو: اے پی پی
یہ ایڈوائزری کچھ عرصے قبل ملک کے کئی حصوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی میں کمی کے بعد جاری کی گئی ہے —فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: گندم کی کٹائی کے سیزن میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی طلب و رسد کی سخت صورتحال کے دوران حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریز کو عیدالفطر سے قبل بڑے ٹرانسپورٹ ایندھن کی فراہمی میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر جاری کی گئی ایڈوائزری میں پیٹرولیم ڈویژن نے ہدایت کی کہ ’تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کراچی سے اندرونِ ملک اپنی لاجسٹک میں اضافہ کریں تا کہ او ایم سیز کے ڈپوز میں اطمینان بخش اسٹاک موجود ہو‘۔

ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی کہ تمام او ایم سیز اور ریفائنریز اپنی تنصیبات اور ڈپوز کو عیدالفطر کے پہلے اور دوسرے روز کے سوا عید کی تعطیلات کے دوران بھی فعال رکھیں جبکہ ریٹیل آؤٹ لیٹس بغیر کسی تعطیل کے فعال رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آئل کمپنیوں کے منافع کمانے کے باعث ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قلت

پیٹرولیم ڈویژن نے او ایم سیز اور ریفائنریز کو ہدایت کی کہ اگر عید الفطر 25 مئی کو ہوئی تو ڈپوز اور تنصیبات کو اتوار (24 مئی) کو فعال رکھیں تا کہ تمام ریٹیل آؤٹلیٹس پر فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

ساتھ ہی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کو ہدایت کی گئی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس بغیر کسی تعطل کے فعال رہیں۔

یہ ایڈوائزری کچھ عرصے قبل ملک کے کئی حصوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فراہمی میں کمی کے بعد جاری کی گئی ہے کیوں کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال میں کسانوں اور منسلک سپلائی چین کو گندم کی کٹائی اور ٹرانسپورٹ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مزید پڑھیں: پیٹرول، ڈیزل کی قیمت 50 روپے فی لیٹر کی جائے، مسلم لیگ (ن)

اس کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایک دوسرے اور پیٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی اور ڈائریکٹوریٹ جنرل کے حکام کی جانب سے حکومت اور صنعت کے متفقہ فیصلوں میں یکطرفہ تبدیلیوں کے الزامات لگائے تھے۔

بعدازاں تیل کی صنعت نے پروڈکٹ ریویو اجلاس میں کیے گئے متفقہ فیصلوں میں تبدیلوں پر باقاعدہ احتجاج بھی کیا تھا جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ آئل فراہمی کے انتظامات کے حوالے سے فیصلہ کرنا اس کا کلی اختیار ہے۔

قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے ملک میں ڈیزل کی قلت اور اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 21 دن کے لازمی اسٹاک کو رکھنے میں کیوں ناکام رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا کی پیٹرول کی قیمت میں صرف 6 پیسے کمی کی تجویز

پی ایس او نے یہ بھی کہا تھا کہ ممکنہ قلت کے انتباہ کے باوجود پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے تیل کی درآمد منسوخ کی۔

اپنی رپورٹ میں پی ایس او نے کہا تھا کہ کچھ بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں عوامی ریفائنریز سے اپنی پروڈکٹس نہیں اٹھا رہیں اور فروخت میں تیزی کے باوجود پروڈکٹ کے لیے مناسب دنوں کا احاطہ نہیں کیا۔