اپنے پزا کو ڈیلیوری ایپ سے خرید کرکے پیسے بٹورنے والا ہوٹل مالک

اپ ڈیٹ 20 مئ 2020

ای میل

ہوٹل مالک نے ایپ کو پیسے دے کر ان زیادہ پیسے لیے—فوٹو: ڈور ڈیش
ہوٹل مالک نے ایپ کو پیسے دے کر ان زیادہ پیسے لیے—فوٹو: ڈور ڈیش

عام طور پر فوڈ ڈیلیوری سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ایپس زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے چکر میں رعایتی ڈیلز متعارف کراتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے توسط سے کھانے پینے کی چیزیں منگوا کر انہیں بھی کمانے کا موقع فراہم کریں۔

فوڈ ڈیلیوری سروس کمپنیاں یا ایپس ایک مخصوص کمیشن کے تحت کھانوں کی دفتروں اور گھروں تک ترسیل کرتی ہیں اور وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے کبھی کبھی مہنگے کھانے کو سستےداموں فروخت کرکے صارفین کا بھروسہ بھی جیتنے کی کوشش کرتی ہیں۔

تاہم ایسی کوشش کرنے والی ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ کو ہوٹل مالک نے ہی بے وقوف بنا کر اسی ایپ سے اپنے ہوٹل کے بنے پزا سستے داموں منگواکر خوب پیسے بٹورے۔

جی ہاں، امریکا میں ایک پزا ریسٹورنٹس مالک نے فوڈ ڈیلیوری ایپ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ہوٹل سے مہنگے پزے خرید کر ایپ کو کم پیسے دے کر بدلے میں ایپ سے زیادہ پیسے لے کر رقم بٹوری۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایک امریکی ہوٹل مالک نے فوڈ ڈیلیوری ایپ کو اپنے ہی ہوٹل کے بہت سارے پزا کا آرڈر دے کر ایپ کو کم پیسے دیے مگر ہوٹل مالک ہونے کے ناطے ایپ سے زیادہ پیسے وصول کیے۔

ہوٹل مالک نے ڈور ڈیش نامی ڈیلیوری سروس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ہوٹل سے 10 پزار منگواکر انہیں اپنے ایک دوست کے گھر ڈیلیور کرنے کا آرڈر دیا اور ان پزا کے بدلے انہوں نے ایپ کو صرف 160 امریکی ڈالر ادا کیے۔

جہاں پزا خریدار بن کر انہوں نے ایپ کو کم پیسے دیے، وہیں ہوٹل مالک ہونے کے ناطے ایپ نے ان کے ہوٹل کو ان ہی 10 پزار کے لیے اصل رقم یعنی 240 امریکی ڈالر فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن فوڈ ڈیلیوری کے کھانے کھانے والا شخص نوکری سے فارغ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیلیوری ایپ نے صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک آزمائشی پروگرام چلایا اور اسے محدود وقت تک صارفین کو ہر پزار پر کم از کم 8 امریکی ڈالر کی رعایت دینے کا اعلان کیا۔

کمپنی نے 24 امریکی ڈالر والے پزا کو صارفین کو 16 ڈالر میں فراہم کرنے کی اسکیم کا اعلان کیا تو ہوٹل مالک نے فرضی نام سے اکاونٹ بنا کر ایپ پر 10 پزا کا آرڈر دیا اور انہیں ایک دوست کے گھر منگوایا۔

ہوٹل مالک نے منگوائے گئے ہزار کے عوض ایپ کے عملے کو 160 ڈالر ادا کیے جب کہ اسی کے ہوٹل نے ایپ سروس سے 240 امریکی ڈالر وصول کیے۔

یہ معاملہ 2019 کے آخر میں پیش آیا تھا اور اس واقعے سے متعلق ابتدائی طور پر ایک بلاگر نے نشاندہی کی تھی، بلاگر نے ہوٹل مالک کا نام راز میں رکھا تھا، تاہم معاملہ سامنے آنےکے بعد ڈیلیوری سروس ایپ نے اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا۔