پاکستان تجارتی قرضوں کی ادائیگی کیلئے کسی قسم کے ریلیف کا ارادہ نہیں رکھتا،مشیر خزانہ

اپ ڈیٹ 20 مئ 2020

ای میل

سپریم کورٹ کی بلڈنگ کی مرمت کیلئے بھی رقم منظور کی گئی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
سپریم کورٹ کی بلڈنگ کی مرمت کیلئے بھی رقم منظور کی گئی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے تجارتی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کسی بھی طرح کا ریلیف حاصل نہیں کرے گا، جبکہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ ان سے تجارتی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں متعدد ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اسلام آباد اور مختلف شہروں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے 36 کروڑ، صوبہ سندھ میں ترقیاتی اسکیموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 3 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ روپے، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس / پارک کی بحالی، عملے کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے 29 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھیں: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی تعیناتی پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج

ای سی سی نے اسٹیملز پیکج کے لیے 10 ارب روپے مختص کردیے تاکہ پاکستان انرجی سکوک ٹو پر 6 ماہ کی مدت کے لیے سود کی ادائیگی میں حائل خلا دور اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم فوری کی جاسکے۔

چیئرمین ای سی سی نے فورم کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ پاکستان اپنے تجارتی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کسی بھی طرح کا ریلیف حاصل نہیں کرے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ ان سے تجارتی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مشیر خزانہ کی آئی ایم ایف حکام سے بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت

ای سی سی نے کسٹم ایکٹ 1969 کے سیکشن 9 کے تحت ملٹی موڈل ٹرانزٹ حب جیا بیگگا این ایل سی ٹرانزٹ پورٹ کو کسٹم کلیئرنس پورٹ کے طور پر منظور کرلیا۔

ای سی سی نے آئی پی پیز / جنکوس کے ساتھ بات چیت کے لیے ٹی او آرز کی منظوری دی۔

مذکورہ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کے وبائی امدادی فنڈ 2020 کے نظم و نسق اور انتظام کے لیے ای سی سی نے پالیسی کمیٹی کے لیے منظوری دے دی جس کے تحت وزیر اعظم پاکستان چیئرمین ہوں گے جبکہ اراکین میں وزیر منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات، وزیر خزانہ اور مالیات کے مشیر، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری اور دیگر سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کیلئے فائدہ مند نہ ہونے والے وزرا کو تبدیل کردوں گا، عمران خان

پاکستان میں اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کرنے کے لیے ای سی سی نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کی سربراہی اور آئی ٹی اینڈ انڈسٹریز کی وزارتوں، ممبران سرمایہ کاری اور انجینئرنگ ڈولپمنٹ بورڈ کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی مناسب وقت پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

ای سی سی نے سبزیوں کے مؤثر استعمال، رمضان ریلیف پیکیج اور وزیر اعظم کے 50 ارب کے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی طرف سے وزیر اعظم کے ریلیف پیکیج کی نگرانی کے لیے حماد اظہر کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا۔