بھارت سے آنے والا وائرس چین اور اٹلی سے زیادہ مہلک لگ رہا ہے، نیپالی وزیر اعظم

20 مئ 2020

ای میل

'باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے کورونا وائرس کی روک تھام بہت مشکل ہوگئی ہے، نیپالی وزیر اعظم — فائل فوٹو / رائٹرز
'باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے کورونا وائرس کی روک تھام بہت مشکل ہوگئی ہے، نیپالی وزیر اعظم — فائل فوٹو / رائٹرز

نیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی نے بھارت کے خلاف جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے آنے والا وائرس چین اور اٹلی سے زیادہ مہلک لگ رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کے پی اولی نے بھارت پر ان کے ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'غیر قانونی طریقوں سے بھارت سے آنے والے ملک میں کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں، جبکہ چند مقامی نمائندے اور پارٹی رہنما بھارت سے ان لوگوں کو بغیر ٹیسٹ کیے نیپال لانے کے ذمہ دار ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے کورونا وائرس کی روک تھام بہت مشکل ہوگئی ہے اور اب بھارت سے آنے والا وائرس چین اور اٹلی سے زیادہ مہلک لگ رہا ہے اور کئی لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں۔

نیپالی وزیر اعظم کے اس بیان سے بھارتی حکام سیخ پا نظر آرہے ہیں اور بھارت اور نیپال کے درمیان نئے روڈ کے افتتاح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کالاپانی سے اپنی فوج واپس بلائے، نیپالی وزیراعظم

پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کے پی اولی نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ نیپال کالا پانی، لَمپیادھورا اور لیپولیکھ کے علاقوں کو ہر قیمت پر دوبارہ حاصل کرے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں نیپال کی کابینہ نے نئے سیاسی نقشے کی منظوری دی تھی جس میں کالا پانی، لَمپیادھورا اور لیپولیکھ کو ملک کے حصے کے طور پر شامل کرلیا گیا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں نیپال کے وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے کالا پانی کے علاقے کو اپنے نقشے میں ظاہر کرنے کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی فوج وہاں سے دستبردار ہوجائے۔

نیپال کمیونسٹ پارٹی کی یوتھ ونگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے پی اولی کا کہنا تھا کہ نیپال، بھارت اور تبت کی سرحد سے ملحق علاقہ کالا پانی نیپال کی ملکیت ہے اور ‘بھارت کو فوری طور پر اپنی فوجیں وہاں سے دستبردار کر لینی چاہیے۔'

مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے نئے 'سیاسی نقشے' مسترد کردیے

انہوں نے کہا کہ ‘ہم کسی ملک کو اپنی سرزمین کے ایک انچ پر بھی قبضے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت اس علاقے کو ہر صورت میں خالی کردے۔'

بھارت کی جانب سے جاری کیے گئے متنازع نقشے پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ ‘نیپال نئے نقشے کو قبول نہیں کرے گا اور بھارت اپنی فوجوں کو ہماری سرزمین سے واپس بلائے گا تو پھر مذاکرات ہوں گے۔'