بھارت اور بنگلہ دیش میں طوفان 'امفن' سے تباہی، 9 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

بھارت کے ساحلی شہر کولکتہ میں رضاکار ایک ٹرک پر گرنے والے درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں— فوٹو: رائترز
بھارت کے ساحلی شہر کولکتہ میں رضاکار ایک ٹرک پر گرنے والے درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں— فوٹو: رائترز

بھارت اور بنگلہ دیش میں طوفان 'امفن' کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس سے اب تک 9 افراد ہلاک اور کم از کم 30 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

طوفان سے مشرقی بھارت میں کولکتہ سمیت متعدد شہروں میں تباہی آئی ہے اور بنگلہ دیش میں بھی بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔

بنگلہ دیش میں کُل 6 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 3 افراد بھارت میں ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایرانی وزیر داخلہ سمیت 7 اہم عہدیداروں پر پابندی لگادی

کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور سماجی فاصلے کے اصول کے سبب لوگوں کو بڑے پیمانے پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ خلیج بنگال میں 1999 کے بعد آنے والا سب سے بڑا طوفان ہے جس سے خطرناک لہریں اٹھنے کا خدشہ ہے، اگرچہ آندھی کی شدت میں کمی آگئی ہے لیکن اسے اب بھی انتہائی خطرناک طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے سربراہ میرت ینجے موہا پترا نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ساحل سے 10 سے 15 کلومیٹر دور تک علاقے اس سے ڈوب سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں کھلنا کے ساحلی علاقے کے رہائشی مٹی سے بند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
بنگلہ دیش میں کھلنا کے ساحلی علاقے کے رہائشی مٹی سے بند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

طوفان 'امفن' سب سے پہلے بھارت اور بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے سندربھن سے ٹکرایا البتہ مینگروو ہونے کی وجہ سے وہاں زیادہ بڑے پیمانے پر تباہی نہیں ہوئی اور اس کے بعد طوفان نے کولکتہ کا رخ کیا۔

اس دوران 185 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور بنگلہ دیش کا رخ کرنے کے بعد طوفان کا بھوٹان کی جانب جانے کا امکان ہے۔

بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ریسپانس فورس کے ڈائریکٹر ستیا نارائن پردھان نے بتایا کہ سائیکلون کے غریب علاقوں پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ہمیں کئی علاقوں سے درختوں کے جڑوں سے اکھڑنے، گھر تباہ ہونے، ٹیلیفون لائن اور بجلی کے کھمبے اکھڑنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ساتھ معاہدے پر قائم ہیں، طالبان

کولکتہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دہائیوں بعد اس طرح کے سائیکلون اور طوفان کاسامنا کیا ہے، گھروں میں پانی بھر گیا ہے، بجلی کے ٹرانسفورمر پھٹ گئے ہیں اور اکثر علاقوں کی بجلی غائب ہو گئی ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیشی ریڈ کراس نے متاثرہ گاؤں اور علاقوں کے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے جہاں طوفان کے نتیجے میں کشتی الٹنے سے پہلی موت ہوئی۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں درخت گرنے سے 2 مزید اموات بھی ہوئیں جبکہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں بھی ایک گھر میں مٹی کی دیوار گرنے سے بچے کی موقع واقع ہوگئی۔

بھارتی ریاست بنگال میں مرکزی شاہراہ درکت کے گرنے سے بند ہو گئی ہے— فوٹو: اے ایف پی
بھارتی ریاست بنگال میں مرکزی شاہراہ درکت کے گرنے سے بند ہو گئی ہے— فوٹو: اے ایف پی

سندربن میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور مقامی گاؤں کے رہائشی نے بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے گھروں پر سے بلڈوزر چل کر گیا ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش دونوں میں متاثرہ افراد کو پناہ دینے کے لیے اسکولوں کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کورونا وائرس کے سبب سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی وجہ سے مزید جگہ کی ضرورت ہے تاکہ لوگ کورونا سے متاثر نہ ہو سکیں۔

مزید پڑھیں: برازیل میں ایک دن میں ریکارڈ ہلاکتیں، دنیا میں کیسز کی تعداد 50 لاکھ سے زائد

بنگلہ دیشی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ 2007 کے بعد اب تک کا سب سے خطرناک طوفان ہو سکتا ہے جہاں مذکورہ طوفان میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات نے طوفان سے 10 سے 16فٹ تک اونچی لہریں بلند ہونے پیش گوئی کی ہے جس سے ساحلی علاقے کے اطراف رہائش پذیر افراد کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔