امریکا کے ساتھ معاہدے پر قائم ہیں، طالبان رہنما

اپ ڈیٹ 20 مئ 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:اے ایف پی
—فائل/فوٹو:اے ایف پی

افغان طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے باوجود کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہوئے تاریخی امن معاہدے پر قائم ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہمارا گروپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ہیبت اللہ اخونزادہ نے عیدالفطر کے حوالے سے جاری بیان میں واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے بہترین موقع کو ضائع نہ کریں۔

مزید پڑھیں:امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

ان کا کہنا تھا کہ 'امارت اسلامی امریکا کے ساتھ ہوئے معاہدے پر قائم ہے اور دوسرے فریق پر زور دیتی ہے کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہیں اور اس اہم موقع کو ضائع نہ ہونے دیں'۔

طالبان رہنما نے کہا کہ 'میں امریکی عہدیداروں پر زور دیتا ہوں کہ کسی کو بھی اس بین الاقوامی معاہدے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے، سست روی اور اس کونقصان پہنچانے کا موقع نہ دیں'۔

خیال رہے کہ فروری کے آخری میں دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد طالبان نے افغان فورسز پر حملوں میں اضافہ کردیا تھا تاہم معاہدے کے مطابق غیرملکی فورسز کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہوا، لیکن امریکا نے خبردار کیا تھا کہ معاہدے پر عمل نہیں ہورہا ہے۔

طالبان کی جانب سے گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں میں فوجیوں سمیت متعدد افراد مارے جاچکے ہیں۔

طالبان نے 18 مئی کو افغان خفیہ ایجنسی کی چوکی پر حملے کا دعوٰی کیا تھا جہاں 8 فوجی مارے گئے تھے۔

مشرقی صوبے غزنی کے گورنر کے ترجمان وحید اللہ جمعہ زادہ نے بتایا کہ صوبے میں کار بم دھماکے سے حساس ادارے کے کم از کم 7 اہلکار ہلاک ہوئے اور 40 کے قریب زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرقی افغانستان میں طالبان کا حملہ، حساس ادارے کے 7 اہلکار ہلاک

انہوں نے کہا تھا کہ طالبان نے اپنے حملے میں ایک فوجی گاڑی کا استعمال کیا اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی یونٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

کابل میں وزارت داخلہ اور غزنی میں صحت حکام نے بھی کار بم دھماکے کی تصدیق کی تھی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کے مجاہدین نے یہ حملہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کا مقصد افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اس معاہدے کے تحت طالبان اور افغان حکومت نے ایک دوسرے کے قیدی بھی رہا کردیے تھے۔

قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر گزشتہ ماہ طالبان نے امریکا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عام شہریوں پر ڈرون حملے کررہا ہے جس کے باعث معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے جبکہ قیدیوں کی رہائی میں بھی بلاجواز تاخیر کی جارہی ہے۔

طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی دیہی پوسٹوں پر حملے روک دیے تھے جبکہ شہروں اور عسکری تنصیبات پر بھی غیر ملکی اور افغان فورسز پر حملے نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھیں:افغان امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے، طالبان کا امریکا کو انتباہ

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے عدم اعتماد کی فضا قائم ہوگی جس سے نہ صرف معاہدے کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے ان کے جنگجو بھی اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہوجائیں گے اور لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

طالبان نے بیان میں کہا تھا کہ 'ہم امریکیوں کو سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ معاہدے کے مندرجات پر عمل کریں اور اپنے اتحادیوں کو بھی اس پر مکمل عمل کی ترغیب دیں'۔